میانمار 7 روہنگیاوں کو واپس لینے کو ہوا تیار، سپریم کورٹ کا روک لگانے سے انکار

سپریم کورٹ نے سینئر وکیل پرشانت بھوشن کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کے پاس پورے دستاویزات موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ساتوں روہنگیا میانمار کے ہیں اور انہیں وہاں بھیجا جانا چاہئے۔

Oct 04, 2018 12:46 PM IST | Updated on: Oct 04, 2018 01:07 PM IST

آسام میں غیر قانونی طریقے سے رہ رہے سات روہنگیا تارکین وطن کو واپس میانمار بھیجا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے سینئر وکیل پرشانت بھوشن کی طرف سے دائر درخواست مسترد کردی ہے۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کے پاس پورے دستاویزات موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ساتوں روہنگیا میانمار کے ہیں اور انہیں وہاں بھیجا جانا چاہئے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ مرکز کے اس فیصلے پر مداخلت نہیں کر سکتا ہے۔ پولیس کے ذریعہ حراست میں لئے جانے کے بعد 2012 سے ہی یہ لوگ آسام کے سلچر ضلع کے کچار سینٹرل جیل میں بند تھے۔

میانمار 7 روہنگیاوں کو واپس لینے کو ہوا تیار، سپریم کورٹ کا روک لگانے سے انکار

میانمار سے بنگلہ دیش میں داخل ہوتے روہنگیا مسلمان: تصویر، اے پی۔

عدالت نے کہا کہ سات روہنگیاوں کو غیر قانونی تارکین وطن پایا گیا اور میانمار نے انہیں اپنے شہری کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ روہنگیاوں کی جلاوطنی پر سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم کئے جا چکے فیصلے میں مداخلت کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ مرکز نے عدالت سے کہا کہ غیر ملکی قانون کے تحت سات روہنگیاوں کو قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ہندوستانی حکومت آج پہلی مرتبہ سات روہنگیا مسلمانوں کو بھیجے گی میانمار

مزید پڑھیں: روہنگیا مظالم : میانمار کی لیڈر آنگ سان سوکی کو لگا بڑا جھٹکا ، کینیڈا نے اعزازی شہریت واپس لی

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز