مغربی بنگال : ٹیپو سلطان مسجد میں ایک ہی وقت میں دو جماعت، مولانا نور الرحمان برکتی حملے میں زخمی

May 18, 2017 10:09 PM IST | Updated on: May 18, 2017 10:10 PM IST

کلکتہ : کلکتہ شہر کے قلب میں واقع ٹیپو سلطان مسجد میں امام کی برطرفی کو لے کر پورے شہر میں گہما گہمی کا ماحول بن چکا ہے ۔صورت حال مزید بھیانک اور بدترین ہونے کی توقع کی جارہی ہے ۔آج مغرب اور عشاء کی نماز  دوحصوں میں ہوئی ہے۔دوسری جانب عصر کی نماز پڑھا کر نکل رہے مولانا نور الرحمن برکتی پر ایک شخص نے اچانک حملہ کردیا جس کی وجہ سے مولانا برکتی بیمار ہوگئے ہیں ۔

ٹیپوسلطان مسجد کے امام کی برطرفی کو لے کر جس طریقے سے سیاست کی جارہی ہے اس سے عام مسلمانوں میں بے چینی ہے۔وہیں فتاؤں کا بھی سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے ۔وہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ مولانا برکتی حامیوں اور مخالفین کے درمیان جمعہ کی نماز کے دوران جھڑپ ہونے کا بھی اندیشہ ہے اگر ایسا ہوا تو نہ صرف مسجد کا تقدس پامال ہوگا وہیں مسلمانوں کو برداران وطن کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مغربی بنگال : ٹیپو سلطان مسجد میں ایک ہی وقت میں دو جماعت، مولانا نور الرحمان برکتی حملے میں زخمی

file photo

مولانا برکتی کے خلاف متعدد مفتیوں کے فتویٰ کے بعد کچھ لوگوں نے مولانا کے پیچھے نماز پڑھنے کے بجائے مسجد کے دوسرے حصے میں دوسری جماعت شروع کردی جس کی وجہ سے دھرم تلہ میں مارکیٹ کیلئے عام نمازی مخمصہ کے شکار ہوگئے وہ کس جماعت میں شریک ہوں ۔کلکتہ کے ایک ملی رہنما نے اپنا نام ظاہر نہیں کرنے کی شرط پر کہا کہ مولانا برکتی سیاست کے شکار ہوگئے ہیں ۔یہ پورا معاملہ سیاسی بنتا جارہا ہے جو افسوس ناک ہے ۔اس پورے معاملے کو گفت و شنید اور افہا م و تفہیم سے حل کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی فتنے کے شکار نہ ہوں۔ جذبات کے بجائے ہوشمندی سے کام لیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز