تریپورہ میں سیلاب کی صورتحال سنگین، 12000 سے زیادہ لوگ بے گھر

Jun 20, 2017 03:49 PM IST | Updated on: Jun 20, 2017 03:49 PM IST

اگرتلا۔ تریپورہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں سے جاری تیز بارش کی وجہ سے ندیوں میں زبردست طغیانی ہے اور اس کی وجہ سے دارالحکومت اگرتلا کے 2500 لوگوں سمیت مختلف حصوں میں 12 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ ریاست کی زیادہ تر ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں اور شہری علاقوں میں ہوئی شدید بارش نے نشیبی علاقوں میں سیلاب جیسے حالات پیدا کر دیئے ہیں جس سے قومی شاہراہ 44 اور دیگر راستوں پر ٹریفک جام کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مغربی تریپورہ کے سپاهي جالا ضلع میں روتھكھولاعلاقے میں بجائی دریا میں ایک 65 سالہ خاتون کے بہنے کی اطلاع ملی ہے۔ اس کی شناخت رینوبالا ساہا کے طور پر کی گئی ہے۔

تریپورہ ضلع انتظامیہ نے نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور سول ڈیفنس کی ٹیموں کو راحت اور بچاؤ کاموں میں لگا دیا ہے۔ ریاست میں كھووائی، كمال پور، كمارگھاٹ، كیلاشاهر، دھرم نگر اور بشال گڑھ کی ندیاں خطرے کے نشان سے کافی اوپر بہہ رہی ہیں جس کی وجہ دریاؤں کے نچلے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو کل شام ہی وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ لیکن پہاڑی علاقوں میں زوردار بارش کا پانی نشیبی علاقوں میں آنے سے صورت حال اور بھیانک ہو گئی هے۔ محکمہ موسمیات نے ریاست میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی ہے اور اگلے 48 گھنٹوں میں تیز هواؤں کے ساتھ زوردار بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ وزیر اعلی مانک سرکار نے کل رات سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیا اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے انتظامیہ کو متاثر افراد تک ہر ممکن مدد پہنچانے کی ہدایات بھی دیں۔

تریپورہ میں سیلاب کی صورتحال سنگین، 12000 سے زیادہ لوگ بے گھر

مسٹر سرکار نے کہا کہ اس بحران کی گھڑی میں ریاستی حکومت کے پاس امدادی کارروائیوں اور پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے اور چیف سکریٹری سنجیو رنجن کو انفرادی طور پر سیلاب پر نظر رکھنے کو کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام ضلعی افسروں کو ضلع اور تحصیل سطح پر کنٹرول پینل نصب کرنے کو کہا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں کوئی بھی شخص فوری طور پر رابطہ کر سکے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز