شمالی دیناج پور میں بھی گائے کے نام پرتشدد میں تین مسلم نوجوان ہلاک، گاؤں والوں نے نہیں منائی عید

Jun 27, 2017 07:48 PM IST | Updated on: Jun 27, 2017 07:48 PM IST

کلکتہ ۔ گائے کے نام پر ہجومی تشدد کے واقعات میں دن بدن ملک بھر میں اضافہ ہورہا ہے ۔مغربی بنگال میں بھی ہجومی تشدد کا واقعہ پہلی مرتبہ پیش آیا ہے ۔ ریاست کے سرکردہ دانشور اور سیکولر لیڈران اس کو ایک خطرے کی گھنٹی کے طور پر دیکھتے ہیں ۔چناں چہ کلکتہ کے ریڈروڈ پر جہاں سب سے بڑی عید کی نماز ہوتی ہے ، خطبہ عید کے دوران امام عید مولانا قاری فضل الرحمن نے شمالی دیناج پور کے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بنگال کی سیاست کیلئے یہ ایک بڑے خطرے کی گھنٹی ہے ۔ قاری فضل الرحمن جب اس موضوع پر بول رہے تھے اس وقت عید گاہ میں ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی موجود تھیں ۔ قاری فضل الرحمن نے اپنے خطاب میں ہریانہ میں حافظ جنید کی بھیڑ کے ذریعہ ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمانوں کی شناخت پر حملہ ہے اور مسلمانوں کو اجتماعی طور پر ڈرانے و دھمکانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

امام عیدین نے مسلم ممبران پارلیمنٹ و لیڈران سے کہا کہ وہ آخر خاموش کیوں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیڈران و سیکولر لیڈروں کو اس کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھ کر مطمئن ہیں کہ مغربی بنگال کبھی بھی فرقہ پرست قوتوں کے ہاتھوں یرغما ل نہیں بنے گا تو وہ خواب غفلت میں ہیں۔ بنگال میں بھی فرقہ پرست قوتیں سرگرم ہیں اور ریاست کی فضا کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی دیناج پور میں تین مسلم نوجوانوں کی گائے چوری کے الزام میں پٹائی اور اس کے نتیجے میں ہلاکت سنگین واقعہ ہے ۔اس کی اعلیٰ سطحی جانچ ہونی چاہیے ۔ قاری فضل الرحمن کی تقریر کا نتیجہ تھا کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے نماز عید الفطر کے بعد اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ مغربی بنگال میں تشدد اور فرقہ واریت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

شمالی دیناج پور میں بھی گائے کے نام پرتشدد میں تین مسلم نوجوان ہلاک، گاؤں والوں نے نہیں منائی عید

علامتی تصویر

خیال رہے کہ ہریانہ کے بلبھ گڑھ میں ٹرین میں حافظ جنید کے ہجومی تشدد کے شکار ہونے کی وجہ سے موت کے ایک دن بعد مغربی بنگال کے شمالی دیناج پور کے چوپڑ بلاک کے درگا پور میں ایک ہجوم نے گائے چوری کے الزام میں تین مسلم نوجوانوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا ۔ ہریانہ کی طرح چوپڑا میں بھی مسلمانوں نے احتجاج کے طور عید الفطر کا تہوار نہیں منایا اور اس پورے واقعہ کی عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا ۔ جمعرات کو محمد سمیرالدین (32)جو کندا پاڑہ گاؤں کا رہنے والا ہے ، محمد نصیرالدین جو دولا گچھ کا رہنے والا ہے اور نصیر الحق (28)کو ہجوم نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا ۔ہجوم کا الزام تھا کہ ان تینوں نے گائے چوری کی ہے ۔پولس نے اس معاملے میں تین افراد کرشنا پوتدار، سمیت باسو اور سومن باسو کو گرفتار کیا ہے۔ شمالی دیناج پور کی ضلع مجسٹریٹ عائشہ رانی نے کہا کہ گائے چوری کے الزام میں تین افراد کو مار مار کر ہلاک کردیا گیا ہے ۔ہم نے تین افراد کو گرفتار کیا ہے ۔ان سے پوچھ تاچھ جاری ہے ۔

چوپڑا پولس اسٹیشن کے ایک سینئر آفیسر نے کہا کہ ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان تینوں کو کچھ دوسری وجہ سے مارا گیا ہے ۔ جب کہ بنگال کے داخلہ سیکریٹری  ملئے دیو نے کہا کہ ہم ضلع انتظامیہ کی رپورٹ کا انتظار کررہے ہیں ۔رپورٹ دیکھے بغیر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاسکتا ۔ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ان تینوں نے گائے چوری نہیں کی تھی ۔اس واقعہ میں ہلاک سمیرالدین کے رشتہ دار دبیر علی نے کہا کہ جمعرات کی شام سمیرالدین کو فون آیا اور وہ اپنے گھر سے باہر نکل آیا ۔ نصف گھنٹے کے بعد جب وہ گھر نہیں لوٹا تو اس کی تلاشی شروع ہوئی ۔بعد میں اس کی لاش گاؤں کے قریب برآمد ہوئی۔ سمیرالدین کے گھر میں یہ دوسرا حادثہ ہے۔ اس سے چار سال قبل سمیر کا بھائی دہلی کام کرنے گیا تھا مگر وہاں وہ لاپتہ ہوگیا جس کا اب تک کوئی سراغ نہیں لگا ہے۔ نصیرالدین کے والد تعمیراتی کام کرتے ہیں ۔نصیرالدین کی اہلیہ نے کہا کہ وہ عید کے بعد دہلی جانے والے تھے۔ مگر اس واقعہ نے پورے خاندان کو توڑ کر رکھ دیا ہے ۔ چوپڑا گاؤں کے لوگ خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز