تین طلاق کے خلاف عرضی داخل کرنے والی عشرت جہاں کو اب سماجی بائیکاٹ کاسامنا ، ممتا سے مانگی مدد

Aug 26, 2017 08:20 PM IST | Updated on: Aug 26, 2017 08:20 PM IST

کلکتہ: ایک ہی مجلس میں تین طلاق کے وقوع کے خلاف درخواست دینے والی عشرت جہاں کی پریشانیاں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کم نہیں ہوئی ہے، کیوں کہ اب کلکتہ میں عشرت جہاں کو سماجی بائیکاٹ کا سامنا ہے اور اس نے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی سے سیکورٹی کا مطالبہ کیا ہے ۔ عشرت جہاں نے میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ چوں کہ میں نے تین طلاق کے خلاف آواز بلند کی اور اس کیلئے لڑائی لڑی اس لیے سماج مجھے گالیاں دے رہی ہے۔ان کی نگاہ میں نے یہ غلط کام کیا ہے ۔یہ لڑائی ہرگزرتے دن کے ساتھ مشکل ہوتی جارہی ہے ۔مگر میری لڑائی جاری رہے گی۔

عشرت جہاں کی پیروی کرنے والی سماجی کارکن نازیہ الہی خان نے کہا کہ 22اگست کو سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ میں سے تین ججوں کے ایک ہی مجلس میں تین طلاق کو غیر آئینی قرار دینے کے بعد سے ہی سماجی کی خواتین ان کا بائیکاٹ کرنا شروع کردیا ہے اور انہیں ’’ہندوکی بیوی‘‘ کہا جارہاہے۔نازیہ الہی خان نے کہا کہ تین طلاق پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ہم لوگ بہت ہی زیادہ خوش تھے۔

تین طلاق کے خلاف عرضی داخل کرنے والی عشرت جہاں کو اب سماجی بائیکاٹ کاسامنا ، ممتا سے مانگی مدد

تاہم اس کے اگلے دن سے ہی آس پاس کے محلے کی خواتین نے ہمارا سماجی بائیکاٹ کرنا شروع کردیا ۔اور دھمکیاں بھی دی جارہی ہے ۔جب کہ ہم نے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ ایک مجلس میں تین طلاق کے خلاف ہے نہ کہ طلاق کے خلاف۔ہم لوگوں نے ایک ہی مجلس میں تین طلاق کے خلاف جد و جہد کی ہے ۔ہم بھی اسلام پر یقین رکھتے ہیں ۔ہم نے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کو خط لکھ کرسیکورٹی کامطالبہ کیا ہے۔

نازیہ الہی خان نے کہاکہ اگر وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے ہمارے خط کا جواب نہیں دیا تو ہم عدالت سے رجوع کریں گے ۔ہم لا اینڈ آرڈر پر یقین رکھتے ہیں مگر اس کا مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہمیں غلط الفاظ سے مخاطب کیا جائے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز