یوپی الیکشن کے نتائج آنے سے پہلے ہی بہار کا سیاسی پارہ بھی ساتویں آسمان پر

Mar 10, 2017 02:07 PM IST | Updated on: Mar 10, 2017 02:07 PM IST

پٹنہ: اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے سے پہلے ہی بہار میں حکمراں اتحاد اور قومی جمہوری محاذ (این ڈی اے) کے لیڈروں کے الگ الگ بیانات سے سیاسی پارہ چڑھ گیا ہے۔ بہار میں این ڈی اے کی حلیف ہندوستانی عوام مورچہ کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلی جیتن رام مانجھی نے آج یہاں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اترپردیش اسمبلی الیکشن میں جیت یا ہار دونوں کی جوابدہی وزیر اعظم نریندر مودی او ربی جے پی صدر امت شاہ کی ہوگی ۔ اور یوپی الیکشن کے نتائج کا اثر بہار پر بھی پڑے گا۔

مسٹر مانجھی نے کہا کہ اگر یوپی میں بی جے پی الیکشن ہارتی ہے تو ریاست میں حکمراں مہاگٹھ بندھن کی سب سے بڑی حلیف آر جے ڈی کے صدر لالو پرساد یادو وزیراعلی نتیش کمار کو عہدہ سے ہٹا دیں گے اور ان پر نائب وزیر اعلی تیجسوی پرساد یادو کو وزیر اعلی کے عہدہ پر بٹھانے کا دباو بنائیں گے۔ انہوں نے کہا ک ہاگر بی جے پی الیکشن میں جیت جاتی ہے تو وزیر اعلی مسٹر کمار آر جے ڈی صدر مسٹر یادو کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور وہ بی جے پی کی حمایت سے وزیر اعلی بنے رہیں گے۔مستقبل میں مسٹر کمار مرکز کی سیاست میں واپس جائیں گے۔ انہوں نے کہاک ہ یوپی کے الیکشن میں بی جے پی نے بہار کے اپنے حلیفوں کو نہیں پوچھا ہے جب کہ بہار اسمبلی کے الیکشن میں حلیفوں کی وجہ سے ہی بی جے پی کو 53سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔

یوپی الیکشن کے نتائج آنے سے پہلے ہی بہار کا سیاسی پارہ بھی ساتویں آسمان پر

بی جے پی کے سابق ریاستی صدر اور ایم ایل اے نند کشور یادو نے دعوی کیا کہ اترپردیش اسمبلی کے الیکشن میں ان کی پارٹی اکثریت کے ساتھ جیت درج کرکے اقتدار میں آئے گی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بہار میں آر جے ڈی صدر مسٹر یادو اور وزیر اعلی مسٹر کمار غور کریں کہ اب انہیں کیا کرنا ہے۔

مہاگٹھ بندھن کی حلیف جنتا دل یونائٹیڈ کے قومی سکریٹری اور ایم ایل اے شیام رجک نے کہا کہ یوپی اسمبلی الیکشن کے نتائج سے بہار پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ یوپی کے انتخابی دنگل میں جنتا دل یو نہیں اتری تھی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج کا مہاگٹھ بندھن کی صحت پر اثر نہیں پڑے گا۔ آر جے ڈی کے سینئر لیڈر اور وزیر خزانہ عبدالباری صدیقی نے کہا کہ اترپردیش اسمبلی الیکشن کے نتائج کا اثر بہار سرکار پر خواہ نہ پڑی لیکن ملکی سطح پر اس کا اثر ضرور ہوگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز