آسنسول میں ریاستی اردو اکیڈمی کی عمارت کی تعمیرمیں تاخیر سے اردو طبقہ میں شدید بے چینی

Jan 05, 2017 11:15 PM IST | Updated on: Jan 05, 2017 11:16 PM IST

آسنسول :مغربی بنگال کے آسنسول میں ریاستی اردو اکیڈمی کی شاخ قائم کرنے کیلئے اکتوبر2015 میں ایک تقریب میں رکن پارلیمان سلطان احمد اور راجیہ سبھا رکن ندیم الحق نے ایک عمارت کا سنگ بنیاد کھا تھا ۔تاہم کئی سال گزر جانے کے باوجود بھی وہ عمارت اب تک تعمیر نہیں ہوسکی ہے۔اب تک عمارت کے نام پر صرف چہار دیواری ہی کھڑی کی گئی ہے۔

ادھر ٹھیکہ داروں کی جانب سے ریت کی قلت کا بہانہ بنایا جا رہا ہے۔ ٹھیکہ دار کا کہنا ہے کہ ریت کی عدم دستیابی کی شکایت ریاستی وزیر ملئے گھٹک اور آسنسول کے میئر جتندر تیواری سے کی گئی ہے ۔ وزیر نے عنقریب مسئلہ کا حل نکالنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔

آسنسول میں ریاستی اردو اکیڈمی کی عمارت کی تعمیرمیں تاخیر سے اردو طبقہ میں شدید بے چینی

اردو اکیڈمی کی عمارت کی تعمیر میں تاخیر سے آسنسول کے اہل اردو کافی ناراض ہیں ۔اس بارے میں ڈپٹی میئر تبسم آرا کا کہنا ہے کہ صرف اردو اکیڈمی ہی نہیں اور بھی کافی کام بالو کی کمی کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہ وہ خود ہی سلطان احمد سے کولکاتہ جا کر بات کریں گی ۔

سی پی آئی ایم لیڈروسیم الحق کا کہنا ہے کہ ترنمول کانگریس نے انتخابات کے دوران کافی وعدے اور دعوے کیے تھے۔ کسی طرح ہم لوگوں نے زمین کا انتظام کرایا ، تو اردو اکیڈمی کا کافی دباؤ بنانے پر افتتاح کے بعد کام شروع ہوا۔ لیکن جس طرح یہ کام اب رکا ہے، اس سے ترنمول حکومت کی دلچسپی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

مقامی ادیب محمد صلاح الدین کا کہنا ہے کہ ویسٹ بنگال اردو اکیڈمی کولکاتہ اردو اکیڈمی بن کر رہ گئی ہے۔ تمام پروگرام صرف وہیں کرائے جاتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا آسنسول میں کیوں نہیں پروگرام کرائے جاتے ہیں ، کیا یہاں اردو کے ادیب اور طلبہ نہیں ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز