بہار کے سرکاری اسکولوں میں برسوں سے خالی ہیں اردو کی اسامیاں ، وزیراعلیٰ سے غورکرنے کی اپیل

May 17, 2017 10:53 PM IST | Updated on: May 17, 2017 10:53 PM IST

پٹنہ: بہار کے سرکاری اسکولوں میں اردو کے اساتذہ نام کے برابر ہی باقی رہ گئے ہیں۔ حکومت اس مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے امیدوار نہیں ملنے کا رونا روتی ہے جبکہ ٹی ای ٹی امیدواروں کی ایک لمبی فہرست ہے ، جو اپنی بحالی کے لئے گزشتہ کئی سالوں سے جدوجہد کررہے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ اس مسئلہ پر برسراقتدار پارٹی کے مسلم لیڈروں کی بھی حکومت بات سننے سے گریز کرتی ہے۔

سن 2013 میں حکومت کی جانب سے اردو ٹی ای ٹی کا امتحان منعقد کرایا گیا تھا۔ بہار اسکول اگزامینیشن بورڈ کی جانب سے منعقدہ اس امتحان میں 13 سوال غلط پوچھے گئے۔ اس معاملہ پر بہار میں کافی ہنگامہ ہوا۔ حکومت نے امیدواروں کو گریس نمبر دینے کا اعلان کیا ، لیکن مسئلہ عدالت میں چلے جانے کے سبب حکومت اپنے اعلان پرعمل نہیں کرسکی۔

بہار کے سرکاری اسکولوں میں برسوں سے خالی ہیں اردو کی اسامیاں ، وزیراعلیٰ سے غورکرنے کی اپیل

جے ڈی یو کے سینئر لیڈر پروفیسرغلام غوث نے راجستھان ہائی کورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کئی مہینوں سے حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ حکومت عدالت کی روشنی میں امیدواروں کو گریس نمبردے کر بحالی کا عمل پورا کرے ، لیکن اب تک ان کی بات نہیں سنی گئی ہے۔

حکومت گریس نمبر دیتی ہے تو تقریبا 12 ہزار امیدوار اساتذہ بننے کے قابل ہوسکیں گے۔ ریاست کی اردو مشاورتی کمیٹی نے حکومت سے گریس نمبر دینے کی سفارش کی تھی۔ محکمہ تعلیم نے اس مسئلہ پر قانونی مشورہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ، لیکن سالوں کے بعد بھی مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔

محکمہ اقلیتی فلاح کے وزیر نے بھی اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے معاملہ کو جلد حل کیاجائے گا۔ حکومت ٹی ای ٹی کے امتحان دے چکے امیدواروں کو گریس نمبر دیتی ہے ، تو سرکاری اسکولوں میں 12 ہزار اساتذہ کی بحالی کا راستہ کھل جائےگا اور اسی کے ساتھ برسوں سے خالی اردو کی آسامیاں پر ہونے لگیںگی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز