بہار میں اردو ٹیچروں کی تقرری معاملے میں اپوزیشن اور حکومت آمنے سامنے

بہار میں اردو ٹیچروں کی بحالی کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ اپوزیشن نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت اردو ٹیچروں کی بحالی کے سلسلے میں لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

Nov 11, 2017 08:59 PM IST | Updated on: Nov 11, 2017 08:59 PM IST

 پٹنہ۔  بہار میں اردو ٹیچروں کی بحالی کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ اپوزیشن نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت اردو ٹیچروں کی بحالی کے سلسلے میں لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے جبکہ برسراقتدار جماعت کا دعویٰ ہے کہ اردو اساتذہ کی بحالی کے تعلق سے حکومت سنجیدہ ہے۔

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی نیت پر اپوزیشن نے حملہ بولا ہے۔ آر جے ڈی لیڈر تنویر حسن کے مطابق حکومت اردو اساتذہ کی بحالی میں بیحد سستی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ غور طلب ہے کہ بہار میں 73 ہزار پرائمری اور مڈل اسکول ہیں جبکہ انٹر اور سیکنڈری اسکولوں کی تعداد قریب چار ہزار ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے سبھی اسکولوں میں ایک ایک اردو ٹیچروں کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اب تک 50 فیصدی سیٹوں پر بھی بحالی نہیں ہوسکی ہے۔ اعداد وشمار پر غور کریں تو قریب 77 ہزار اسکولوں میں 77 ہزار اردو کے اساتذہ کی بحالی ہونی ہے جبکہ نتیش حکومت 2005 سے لیکر اب تک محض30 ہزار اساتذہ کی بحالی کرسکی ہے۔ ایسے میں اپوزیشن نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بہار میں اردو ٹیچروں کی تقرری معاملے میں اپوزیشن اور حکومت آمنے سامنے

اپوزیشن کے مطابق حکومت کے افسران اردو کے تئیں سنجیدہ نہیں ہیں جبکہ برسراقتدار پارٹی کا ماننا ہے کہ حکومت کام کر رہی ہے۔ ادھر حالت یہ ہیکہ اپریل سے اسکولوں کا سیشن چل رہا ہے لیکن سات مہینہ بعد بھی اردو کی کتابیں طلباء کو نہیں مل سکی ہیں ۔ اسکولوں میں اردو کی زبوں حالی حکومت کے دعوے پر سوال کھڑا کرتی ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز