اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے راوت سے سینئر وکیل کاعہدہ واپس مانگا

Apr 10, 2018 10:23 PM IST | Updated on: Apr 11, 2018 12:05 AM IST

اتراکھنڈ خانہ ہائی کورٹ نے ایک سینئر وکیل سے غلط بیانی اور غیر اخلاقی برتائو کا مجرم تسلیم کرتے ہوئے ان سے ان کا عہدہ واپس لینے کافیصلہ کیاہے۔ جسٹس لوکپال سنگھ نے سینئر وکیل اوتار سنگھ سے ان کا عہدہ واپس لینے کا مشورہ دیاہے۔ انہوں نے اس معاملے کو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے رکھنے کے احکامات دیئے ہیں۔

جسٹس لوکپال سنگھ کی بنچ نے کہاکہ یہ بالکل واضح ہے کہ سینئر وکیل بننے کے بعد اوتار سنگھ راوت نے عدالت کی جانب سے دیئے گئے عہدے کا  غلط استعمال کیا۔

اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے راوت سے سینئر وکیل کاعہدہ واپس مانگا

عدالت کا خیال ہے کہ وہ سینئر وکیل بننے کے قابل نہیں ہیں، لہٰذا راوت کے سینئر وکیل کا عہدہ چھیننے منسوخ کرنے کے لئے یہ معاملہ چیف جسٹس کے سامنے رکھنا چاہئے۔ یہ فیصلہ فروری میں دیا گیا تھا، لیکن اسے پیر کو جاری کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جج نے اس وقت 'غیر معمولی حکم میں کچھ ضروری تبدیلی کرنے میں جج کو تھوڑا وقت لگ گیا۔ جسٹس سنگھ اس بات پر ناراض ہوئے کہ وکیل راوت کئی سال پہلے اپنے جس کلائنٹ کی وکالت کی ہے، اب وہ اس کے خلاف مقدمہ لڑ رہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز