دارجیلنگ میں تشدد بھڑک اٹھا، گورکھا مظاہرین نے کی پولیس چوکی میں توڑ پھوڑ

Jul 08, 2017 03:39 PM IST | Updated on: Jul 08, 2017 03:39 PM IST

دارجیلنگ۔  گورکھا نیشنل لبریشن فرنٹ (جی این ایل ایف) کے کارکن تسی بوٹیا کی کل رات مبینہ طور پر سیکورٹی فورسیز کی فائرنگ میں موت کے واقعہ کے بعد دارجیلنگ ہلز میں آج تشدد بھڑک اٹھا اور گورکھا مظاہرین نے سونادا تھانہ کا گھیراؤ کرکے سیکورٹی فورسیز پر پتھراؤ کیا۔ پولیس نے تشدد پر مُصر بھیڑ کو کھدیڑنے کیلئے آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور ربر کی گولیاں چلائیں۔ رپورٹ ملنے تک تھانہ کا گھیراؤ جاری تھا۔ دوسری طرف،  علیحدہ گورکھا لینڈ کے مطالبہ پر دارجیلنگ ہلز کی مختلف سیاسی پارٹیوں کی گورکھا لینڈ موومنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (جی ایم سی سی) کی اپیل پر غیرمعینہ بند آج 27 ویں دن میں داخل ہو گیا۔ جی این ایل ایف کے لیڈر نیرج جمبا نے الزام لگایا کہ تسی کی موت مبینہ طور پر مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی فائرنگ میں کل رات تقریباً 11 بجے اس وقت ہوئی جب وہ دوائیں لینے جا رہا تھا۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ سیکورٹی فورسیز نے اس وقت گولیاں چلائیں، جب کچھ بدمعاش ایک کار میں توڑ پھوڑ کر رہے تھے۔ دارجیلنگ ضلع انتظامیہ اور پولیس نے سونادا میں سیکورٹی فورسیز کے ذریعہ فائرنگ کئے جانے کی تردید کی ہے۔ ہلاک شدہ کے گھروالوں نے اس معاملے میں سونادا تھانہ میں ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ تُسی کی موت کی خبر پھیلتے ہی واقعہ کی مخالفت میں مردوں اور عورتوں کا ہجوم سڑکوں اور گلیوں پر اتر آیا اور ٹریفک جام کردیا۔ گورکھا جن مکتی مورچہ (جی جے ایم) کے معاون سکریٹری ونے تمانگ نے الزام لگایا کہ تسی کی موت کے ساتھ ہی دارجیلنگ ہلز میں سیکورٹی فورسیز کی فائرنگ میں اب تک چار گورکھا حامی مارے جا چکےہیں۔

دارجیلنگ میں تشدد بھڑک اٹھا، گورکھا مظاہرین نے کی پولیس چوکی میں توڑ پھوڑ

دریں اثنا ریاست کے وزیر سیاحت گوتم دیو نے سلی گوڑی میں نامہ نگاروں سے کہا کہ اس نوجوان کی موت افسوسناک ہے اور وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کی موت کیسے ہوئی ہے، لیکن سونادا میں سیکورٹی فورسیز کے ذریعہ فائرنگ نہیں کی گئی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز