متنازع بیانات کیلئے مشہور بی جے پی لیڈر دلیپ گھوش کے تعلیمی لیاقت پر سوالیہ نشان، کالج انتظامیہ نے سرٹیفکیٹ کی نہیں کی تصدیق

Apr 08, 2017 01:48 PM IST | Updated on: Apr 08, 2017 01:48 PM IST

کلکتہ : متنازع بیانات کی وجہ سے ہمیشہ میڈیا میں چھائے رہنے والے بنگال بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش الیکشن کمیشن میں جمع اپنے سرٹیفکٹ کو لے کر پھر ایک نئے تنازع کے شکار ہوگئے ہیں ۔ الیکشن کمیشن کو جمع سرٹیفکٹ کے مطابق گھوش نے جھار گرام پولی ٹیکنک کالج سے ڈپلوما کیا ہے ۔مگرایک آرٹی آئی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایشور چندر ا ودیا ساگر پولی ٹیکنک کالج کے ریکارڈ میں 1975سے 1990کے درمیان دلیپ گھوش کے ڈپلومہ کرنے کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔

سال 2016کے اسمبلی انتخابات میں الیکشن کمیشن کو 53سالہ دلیپ گھوش نے اپنے حلف نامہ میں کہاتھا کہ وہ جھاڑ گرام پولی ٹیکنک کالج سے ڈپلومہ پاس کیا ہے ۔مگرانہوں نے اس کی کوئی تفصیل نہیں دی تھی۔دلیپ گھوش نے کھڑکپور صدر اسمبلی حلقہ سے کامیابی حاصل کی ہے۔ آر ایس ایس کے سابق پرچارک دلیپ گھوش کوان دنوں رام نومی کے موقع پر مسلح جلوس کی قیادت کرنے وجہ سے غیر ضمانتی کیس کا سامنا ہے ۔ممتا بنرجی سے متعلق متنازع بیان دینے کے علاوہ وہ نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین سے متعلق توہین آمیز ریمارکس دے چکے ہیں ۔

متنازع بیانات کیلئے مشہور بی جے پی لیڈر دلیپ گھوش کے تعلیمی لیاقت پر سوالیہ نشان، کالج انتظامیہ نے سرٹیفکیٹ کی نہیں کی تصدیق

دلیپ گھوش کے خلاف آر ٹی آئی کی درخواست دینے والا بی جے پی لیڈر اشوک سرکار ہے ۔کل جمعہ کو انہیں پارٹی صدر سے متعلق آر ٹی آئی جمع کرانے کے پاداش میں پارٹی سے برطرف کردیا گیا ہے ۔اشوک سرکار نے کہا ہے کہ وہ بنگال اسمبلی کے اسپیکر بمان بنرجی کو خط لکھ کر دلیپ گھوش کو برطرف کرنے کی اپیل کریں گے ۔ آرٹی آئی کے جواب میں کالج کے پرنسپل نے لکھا ہے کہ آفس کے ریکارڈ کے مطابق دلیپ گھوش ولد بھولاناتھ گھوش ساکن کولینا ، پوسٹ ملانچا ، پولس اسٹیشن بیلا بیرا ضلع مغربی مدنی پور نے ایشور چندر ا ودیا ساگر پولی ٹیکنک کالج سے 1975سے 1990کے درمیان کوئی ڈپلومہ انجینئرنگ نہیں کیا ہے ۔خیال رہے کہ جھاڑ گرام میں کوئی دوسرا پولی ٹیکنیک کالج نہیں ہے ۔

حلف نامہ کے مطابق دلیپ گھوش 1964میں پیداہوئے ہیں ۔ظاہر ہے کہ 1975سے 1990کے درمیان کی عمر ہی تعلیم کی عمر ہے ۔سرکار نے کہا کہ میں نے اسی کے پیش نظر اس مدت کے درمیان سے متعلق تفصیلات طلب کی ہے۔دوسری جانب اپنے ہی پارٹی کے ایک لیڈر کی طرف سے آرٹی آئی داخل کیے جانے سے حیران دلیپ گھوش نے کہاکہ سرکار کیلئے عدالت کا دروازہ کھولا ہوا ہے ۔عدالت میں جواب ملے گا ۔تاہم انہوں نے جعلی سرٹیفکٹ پیش کرنے پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ اشوک سرکار نے کہا کہ وہ پہلے الیکشن کمیشن سے رابطہ کریں گے اس کے بعد ریاستی اسمبلی کے اسپیکر کے پاس جائیں گے اور ان دونوں جگہ سے کارروائی نہیں ہوئی تو پھر عدالت جائیں گے ۔

خیال رہے کہ اشوک سرکار بی جے پی کے ٹکٹ پر 2016کے اسمبلی انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں ۔بنگال کی اپوزیشن جماعتوں نے میڈیا میں آرہی خبروں پر کہا ہے کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے ۔ سی پی ایم لیڈر سوجن چکرورتی نے کہا کہ گھوش کو اخلاقی بنیاد پراستعفیٰ دیدینا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی ، سابق وزیر فروغ انسانی وسائل اور مرکزی وزیر سمرتی ایرانی اور اب دلیپ گھوش کے سرٹیفکٹ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔مجھے امید نہیں ہے کہ بنگال حکومت اس پر کارروائی کرے گی ۔مگر ہماری پارٹی اس ایشو کو اسمبلی میں اٹھائے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز