ممتا بنرجی اور سونیا گاندھی کے درمیان ملاقات سے بنگال کانگریس کے لیڈران ناراض ، کہی یہ بات

May 19, 2017 02:38 PM IST | Updated on: May 19, 2017 02:38 PM IST

کلکتہ: پارٹی ہائی کمان کے ذریعہ ریاستی لیڈروں کی رائے کی اہمیت نہیں دیے جانے پر بنگال کانگریس کے لیڈران پارٹی اعلیٰ قیادت سے برہم نظر آرہی ہے۔ بنگالی کانگریسی لیڈروں کا موقف ہے کہ ترنمول سپریمو اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ کانگریس صدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راہل گاندھی ملاقات کی وجہ سے بنگال میں کانگریس کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ ترنمول کانگریس مسلسل کانگریسی لیڈران اور ورکرس پر مظالم کرتے رہے ہیں ۔

خیال رہے کہ 16مئی کو کانگریس صدر سونیاگاندھی اورراہل گاندھی کے ساتھ ممتا بنرجی کی ملاقات ہوئی تھی۔یہ ملاقات جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے پیش نظرتمام سیکولر و اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے متفقہ امیدوار کھڑا کرنے کیلئے اتفاق ارئے بنانے کیلئے ہوئی تھی۔ریاستی کانگریس کے لیڈران اس ملاقات سے اس لیے برہم ہیں کہ اس طرح کی کسی بھی ملاقات سے پارٹی ورکروں کے حوصلے ٹوٹیں گے ۔

ممتا بنرجی اور سونیا گاندھی کے درمیان ملاقات سے بنگال کانگریس کے لیڈران ناراض ، کہی یہ بات

پارٹی قیادت کا ماننا ہے کہ اس کی وجہ سے بی جے پی کا فائدہ ہوگا اور کانگریس کا ووٹ بینک بی جے پی کے حق میں چلا جائے گا۔سینئر کانگریسی لیڈر و سابق ممبر پارلیمنٹ دیبا داس منشی نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ترنمول کانگریس نے بنگال میں کانگریس کو ختم کرنے کیلئے مہم چلارکھی ہے ۔اس کیلئے ہر طرح سے ظلم کررہی ہے ۔ان حالات میں پارٹی اعلیٰ قیادت کی ممتا بنرجی سے ملاقات سے پارٹی ورکروں کے درمیان غلط پیغام جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ترنمول کانگریس کے غنڈوں سے مار کھانے والے پارٹی ورکروں کو اس ملاقات کے تئیں راضی کرنا کافی مشکل ہے ۔وہ کسی بھی طرح سے ترنمول کانگریس سے معاہدہ کرنے کو تیارنہیں ہیں۔

ریاستی کانگریس کے صدر ادھیر رنجن چودھری نے سونیا گاندھی کو خط لکھ کر کہا تھا کہ قومی سیاست کی خاطر ریاستی کانگریس کے مفادات کو قربان نہیں کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اکثر قومی سیاست کی وجہ سے بنگال کانگریس کے لیڈروں کی آواز کو دبادیا جاتا ہے ۔اس کی وجہ سے زمینی سطح کے پارٹی ورکروں میں مایوسی پھیل جاتی ہے جو مسلسل ترنمول کانگریس کے غنڈوں کا مقابلہ کررہے ہیں ۔ ہم پارٹی ورکروں کو اس ملاقات کے تئیں قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر ہمیں نہیں لگتا ہے وہ آسانی سے ہماری باتوں کو تسلیم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک طویل مدت سے بنگال کانگریس کے لیڈران قومی سیاست کی وجہ سے نظر انداز کیے جاتے رہے ہیں ۔

سال 2004میں بایاں محاذ سے حمایت لے کر مرکز میں سرکار بنانے کی وجہ سے کانگریس کا ووٹ بینک ترنمول کانگریس کے پاس چلا گیا تھا اور اب بی جے پی میں جا سکتا ہے۔تاہم ادھیر چودھری نے کہا کہ پارٹی اعلیٰ کمان نے ریاستی سطح پر ممتا بنرجی کے خلاف مہم کو بند کرنے کی کوئی بھی ہدایت نہیں دی ہے۔ آل انڈیا کانگریس کے جنرل سیکریٹری شکیل احمد نے ریاستی کانگریس کے اندیشوں کو خارج کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی اور قومی سیاست میں فرق ہوتا ہے۔ہم اڑیسہ میں بر سر اقتدار بیجو جنتادل کو صدارتی انتخاب میں اپنے ساتھ لانا چاہتے ہیں ۔مگر وہاں کے لیڈران اس پر کوئی اعتراض نہیں کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ بنگال کانگریس کے لیڈران اس حقیقت کو سمجھیں گے سیکولر فورسیس کو متحد کرنے کے لئے یہ ساری کوششیں ہورہی ہیں ۔

سال 2016میں اسمبلی انتخابات کے بعد کانگریس کے 44ممبران کی تعداد گھٹ کر 39ہوگئی ہے۔اسی طرح مرشدآباد اور مالدہ ضلع پریشد جہاں کانگریس کا قبضہ تھا اس پر ترنمول کانگریس نے قبضہ کرلیا ہے ۔ایک ممبر اسمبلی نے کہا کہ پارٹی اعلیٰ کمان بنگال کانگریس کے لیڈران کے مشورے کو اہمیت نہیں دیتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز