مغربی بنگال اقلیتی کمیشن نے جیل میں روزہ داروں کو فراہم کی گئیں سہولیات سے متعلق رپورٹ طلب کی

Jun 08, 2017 10:52 PM IST | Updated on: Jun 08, 2017 10:52 PM IST

کولکاتہ : رمضان کے مہینے میں عبادت ہر خاص و عام کا اہم مقصد ہوتا ہے ۔ مسلمانوں کے لئے اس مہینے میں عبادت اہم ہوتی ہے ، لیکن جیل میں سزا کاٹ رہے مسلم قیدیوں کے لئے رمضان کا ماحول کیسا ہے ، مغربی بنگال اقلیتی کمیشن نے اس تعلق سے ریاست کے تمام اضلاع کے ڈی ایم کو خط لکھ معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

سچررپورٹ میں جہاں بنگال کے مسلمانوں کو سب سے زیادہ پسماندہ بتایا گیا ہے وہیں قانونی میدان میں مسلم وکلاء و ججوں کی تعداد کو اطمینان بخش بتایا گیا تھا ۔ ریاست میں مسلم وکلاء کی بڑی تعداد کے پیش نظر یہاں مختلف کورٹ میں مساجد بھی قائم کی گئیں ہیں ۔ تاہم وکلاء کے ساتھ جیل میں بند قیدیوں میں بھی مسلم قیدیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ 2012 میں مغربی بنگال اقلیتی کمیشن نے نیشنل کانفرنس میں یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے حیرانی کا اظہار کیا تھا کہ آخر جیلوں میں سب سے زیادہ مسلم قیدی کیوں ہیں۔

مغربی بنگال اقلیتی کمیشن نے جیل میں روزہ داروں کو فراہم کی گئیں سہولیات سے متعلق رپورٹ طلب کی

کمیشن کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ مسلم قیدیوں کی بڑی تعداد ایسی ہے ، جو برسوں سے سماعت کی منتظر ہیں، جس کے بعد گرچہ ان کی سماعت میں تیزی آئی اور ان کی تعداد میں کمی بھی، لیکن اب بھی اقلیتوں کی ایک بڑی تعداد جیلوں میں بند ہے۔

بنگال کی جیلوں میں تراویح کی نماز کا اہتمام بھی کیا جاتا تھا ۔تاہم کمیشن کے مطابق بیشتر جیلوں میں یہ سہولت ختم کردی گئی ہے ۔ کمیشن نے روزہ رکھنے والے مسلم قیدیوں کے افطار وسحر کے ساتھ تراویح کا اہتمام کس طرح کیا گیا ، اس تعلق سے انتظامیہ سےرپورٹ طلب کی ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز