موب لنچنگ کا شکار16سالہ انور حسین کے گاؤں میں ماتم کا ماحول، لوگوں نے کہا : حسین اسمگلر نہیں ، قربانی کیلئے جانور لینے گیا تھا

Aug 28, 2017 09:02 PM IST | Updated on: Aug 28, 2017 09:02 PM IST

کوچ بہار: مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی میں گائے رکشکوں کے ہاتھو ں ہلاک ہوئے 16سالہ انور حسین کے گاؤ ں سکنی والا جو کوچ بہار سے محض 20کلو میٹر کی دوری پر واقعہ ہے غم و غصہ کا ماحول ہے اور گاؤں کے باشندے بیک زبان کہہ رہے ہیں کہ انور حسین گائے اسمگلر نہیں تھا ۔بلکہ وہ قربانی کیلئے جانور خریدنے گیا تھا۔

دوسری جانب اس پورے واقعے پر ممتابنرجی کی قیادت والی حکومت کی خاموشی پر سخت تنقید کرتے ہوئے سی پی ایم لیڈر و ممبر پارلیمنٹ محمد سلیم نے کہا گیا کہ گؤ رکشکوں کی غنڈی گردی کا گزشتہ ڈھائی مہینہ میں یہ دوسرا واقعہ ہے ۔اس سے قبل شمالی دیناج پو ر کے چوپڑا میں گؤ رکشکوں نے تین افراد کو مار کر ہلاک کردیا تھا اور اس وقت بھی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی اور اب جلپائی گوڑی میں یہ واقعہ پیش آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یونہی خاموش رہی تو مغربی بنگال میں مزید اس طرح کے واقعات رونما ہوسکتے ہیں ۔

موب لنچنگ کا شکار16سالہ انور حسین کے گاؤں میں ماتم کا ماحول، لوگوں نے کہا : حسین اسمگلر نہیں ، قربانی کیلئے جانور لینے گیا تھا

خیال رہے کہ کل صبح 3بجے جلپائی گوڑی کے برہوریا گاؤں میں گائے لے جارہے پیکپ گاڑی کو روک کر ایک ہجوم نے گاڑی میں سوار دو افراد پر حملہ کردیا جس میں 16سالہ انور حسین اور 19سالہ حفیظ الشیخ کی موت ہوگئی تھی ۔یہ واقعہ جلپائی گوڑی کے دھوپ پوری شہر سے 15کلو میٹر کی دوری پر واقع گاؤں میں پیش آیا۔ حفیظ الشیخ آسام کے دھوبری کا رہنے والا ہے جب کہ انور حسین بنگال کے کوچ بہار ضلع کے سکنی والا گاؤں کا باشندہ ہے ۔

انور کے والدین بہت ہی زیادہ غریب ہیں ، ان کے مستقل آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے،والد محمد حسین یومیہ مزدوری کرتے ہیں ۔جب کہ انور کی ماں انوربیگم بھی ان کے ساتھ کام کرتی ہیں۔جب کہ انور حسین پنڈی واڑی مدرسہ میں نویں جماعت کا طالب علم ہے ۔والدین کی مستقبل آمدنی نہیں ہونے کی وجہ سے انور حسین بھی گاڑی صفائی اور گاڑی میں خلاصی کا کام کرتا ہے ۔اس سے اپنی پڑھائی کو جاری رکھتا ہے ۔

مہلوک انور کے والد محمد حسین نے یو این آئی کو بتایا کہ ان کا بیٹا بے قصور ہے اور وہ تعلیم کے ساتھ ہماری مدد بھی کرتا تھا۔اس کو گائے اسمگلنگ کے الزام میں گاؤں والوں نے ماردیا ۔انہوں نے کہا کہ سنیچر کی شام گاؤں کے ہی ایک گاڑی پر وہ خلاصی بن کر آسام کے بکسی ہاٹ سے گائے خریدنے گیا تھا۔اس کے بیٹے سے کہا گیا تھا کہ بکسی ہاٹ سے قربانی کیلئے گائے خرید کر لانا ہے ۔ڈرائیور بھی شناخت کا تھا۔اس لیے اس نے بیٹے کو اس کے ساتھ بھیج دیا تھا۔محمد حسین نے بتایا کہ یہ لوگ گائے خرید کر واپس آرہے تھے۔چوں کہ شاہراہ پر جگہ جگہ پر پولس اور گؤ رکشک گاڑی کو گھیر گھیر غنڈ ہ ٹیکس وصول کرتے ہیں اس لییاس لیے واپسی کیلئے رات کے وقت کا انتخاب کیا گیا تھا۔مگر رات میں بھی ان کے بیٹے کی جان نہیں بچ پائی ۔

انہوں نے کہاکہ انہیں خبر ملی ہے کہ جس گاؤں میں ان کے بیٹے کو پیٹ پیٹ کر ماردیا گیا ہے اس گاؤں کے لوگوں نے پہلے گاڑی کو گھیر کر 50ہزار روپیہ کا مطالبہ کیا تھا کہ یہ روپے دیدیں تو وہ چھوڑ دیں گے ۔چوں کہ ان کے پاس روپیہ نہیں تھے اس لیے گاؤں والوں نے ان پر حملہ کردیا ۔ خیال رہے کہ مغربی بنگال میں گائے کی قربانی کی اجازت ہے ۔

انور حسین کے گاؤں والوں نے بتایا کہ 16سالہ لڑکا کبھی اسمگلر نہیں ہوسکتا ہے۔اس کے ساتھیوں میں بھی کوئی اسمگلر نہیں تھا ۔وہ مدرسہ میں تعلیم حاصل کرتا تھا اور خالی اوقات میں والدین کی مدد کیلئے محنت و مزدوری کا بھی کرلیتا تھا۔کوچ بہار ترنمول کانگریس ضلع نائب صدر ایڈوکیٹ عبد الجلیل نے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی جانچ ہونی چاہیے اور قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو بھی نہیں ہے ۔

ممبر پارلیمنٹ محمد سلیم نے کہا کہ اس واقعے کیلئے براہ راست ممتا بنرجی ذمہ دار ہیں ۔کیوں کہ حکومت نے چوپڑا میں گئگو رکشکوں کے حملے سے کوئی سبق نہیں لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چوں کہ عید الاضحی کو صرف ایک ہفتہ رہ گیا ہے۔ایسے میں بڑی تعداد میں جانوروں کی خریداری کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اس کے باوجود حکومت نے سیکورٹی کے کوئی انتظامات نہیں کیے ہیں ۔انہوں نے ممتابنرجی پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے ایجنڈے کو بڑھاوا دینے کاالزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ عید الاضحی کے مہینے میں ممتا بنرجی نے محرم کے یوم عاشورہ پر مورتی بھسان کا مسئلہ چھیڑدیا ہے ۔جب کہ کسی بھی مسلم تنظیم اور لیڈر نے انہیں یوم عاشورہ کے موقع پر مورتی بھسان کے پروگرام کو رد کرنے کی درخواست نہیں کی تھی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اس بہانے پولرائزیشن کی سیاست کررہی ہے اور یہ باور کرانے کی کوشش کررہی ہے کہ یہ مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش ہے جب کہ در اصل ممتا بنرجی نے اس بہانے پوجا کی مدت میں اضافہ کردیا ہے اور ایک نئی روایت شروع کردی ہے ریڈروڈ جہاں آزادی کے قبل سے ہی لاکھوں مسلمان عیدین کی نماز ادا کرتے ہیں وہ مورتی پریڈ کراتے ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز