یوپی میں غیر قانونی سلاٹر ہاؤس کے خلاف کارروائی کا مغربی بنگال پر بھی اثر ، چمڑہ کاروبار کو کافی نقصان

یوپی و دیگر ریاستوں سے جانوروں کے نہ آنے کی وجہ سے کولکاتہ کے ایک سلاٹر ہاؤس میں گزشتہ چار دنوں سے کام بند ہے۔

Mar 30, 2017 09:10 PM IST | Updated on: Mar 30, 2017 09:10 PM IST

کولکاتہ : اترپردیش میں غیر قانونی سلاٹر ہاؤس کے خلاف کارروائی کا اب مغربی بنگال میں بھی اثر نظر آرہا ہے ۔ ریاست میں نہ صرف بیف کاروبار بلکہ چمڑہ کاروبار کو بھی کافی نقصان ہورہا ہے ۔ یوپی و دیگر ریاستوں سے جانوروں کے نہ آنے کی وجہ سے کولکاتہ کے ایک سلاٹر ہاؤس میں گزشتہ چار دنوں سے کام بند ہے۔ قریشی برادری نے کولکاتہ کارپوریشن سے سرکاری سلاٹر ہاؤس کے قیام کے لیے آگے آنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ مغربی بنگال گوشت کاروبار کے لئے ہمیشہ ہی پرسکون رہا ہے ۔ یہاں پچھلی لیفٹ حکومت میں اس کاروبار کو فروغ ملا ۔ بیشتر رہائشی علاقوں میں غیر قانونی سلاٹر ہاؤس بھی قائم کیے گئے ۔ موجودہ ممتا حکومت نے بھی اس کاروبار کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی ۔ خود وزیراعلی ممتا بنرجی نے کھانے پینے پر اعتراضات کو غلط قراردیتے ہوئے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ کون کیا کھائے گا ، یہ حکومت طے نہیں کرے گی ۔ یہ انسان کی اپنی پسند پرمنحصر ہے۔

یوپی میں غیر قانونی سلاٹر ہاؤس کے خلاف کارروائی کا مغربی بنگال پر بھی اثر ، چمڑہ کاروبار کو کافی نقصان

تاہم یوپی میں غیر قانونی سلاٹر ہاوس پر پابندی کے فیصلہ اور جانوروں کی خرید و فروخت میں پریشانی کی سبب وہاں بھی گوشت کاروبار پر برا اثر پڑاہے ۔ قریشی برادری نے حکومت سے تحفظ کی فراہمی و لائسنس رینو کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز