مغربی بنگال ریاستی وقف بورڈ پر فرضی ائمہ اور مؤذن کو وظائف دینے کا الزام

Feb 27, 2017 10:18 PM IST | Updated on: Feb 27, 2017 10:19 PM IST

کولکاتہ : مغربی بنگال میں ائمہ کو وظائف دینے کا معاملہ بھی اب سیاست کا شکار ہوگیاہے اور بیشترغیرامام بھی سیاسی سرپرستی کے باعث وظیفہ پانے والوں کی فہرست میں شامل ہیں ۔ آل بنگال اقلیتی یوتھ فورم نے یہ الزام لگایا ہے۔ آل بنگال اقلیتی یوتھ فورم نے دہلی حکومت کے طرز پر بنگال کے ائمہ کو وظائف دینے کے ساتھ گیتانجلی و اندرا یواس یوجنا کے تحت مکان فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

مغربی بنگال میں پہلی مرتبہ اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعلی ممتا بنرجی نے ائمہ کے لیے وظائف کا اعلان کیا تھا اور ریاست کے 30 ہزار آئمہ کو ڈھائی ہزار جبکہ مؤذن کو ایک ہزار دینے کا اعلان کیا گیاتھا۔ حکومت کے اس فیصلہ پر کولکاتہ ہائی کورٹ کی روک کے بعد وقف بورڈ کے تحت وظیفہ دینے کا اعلان کیا گیا ، جہاں سے وظیفہ دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

مغربی بنگال ریاستی وقف بورڈ پر فرضی ائمہ اور مؤذن کو وظائف دینے کا الزام

تاہم وظیفہ پانے والوں میں بیشتر ایسے لوگ شامل ہیں ،جو نہ امام ہیں نہ ہی مؤذن۔ آل بنگال اقلیتی یوتھ فورم نے بورڈ سے وظیفہ پانے والے ائمہ کی فہرست جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا ، لیکن بورڈ کی جانب سے اس تعلق سے اقدامات نہ کیے جانے پر فورم نے رابطہ ویب سائٹ کے تحت ریاست کے امام و مؤذن کی فہرست سامنے لانے اور وظیفہ پانے والے لوگوں کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کے لیے ویب سائٹ کا افتتاح کیا ۔ ویٹ سائٹ افتتاحی پروگرام میں حکمراں جماعت کے لیڈران نے بھی شرکت کی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز