بنگال کی واحد اقلیتی یونیورسٹی عالیہ یونیورسٹی میں گزشتہ چار مہینے سے وائس چانسلر نہیں ،کئی اہم فیصلے ٹھپ

Feb 08, 2018 08:54 PM IST | Updated on: Feb 08, 2018 08:54 PM IST

کلکتہ : مغربی بنگال حکومت کی پہلی واحد اقلیتی عالیہ یونیورسٹی گزشتہ چار مہینے سے وائس چانسلر کے بغیر چل رہی ہیں ۔پروفیسر ابو طالب خان کی مدت ستمبر میں ختم ہونے کے بعد یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر نوشاد علی کو قائم مقام وائس چانسلر مقرر کیا گیا تھا۔وہیں وزارت اقلیتی امور نے کہا کہ فروری کے اخیر تک وائس چانسلر کی تقرری کا امکان ہے ۔

اعلیٰ تعلیم کے ریاستی وزیر پارتھو چٹرجی نے گزشتہ سال ستمبر میں کہا تھا کہ عالیہ یونیورسٹی کیلئے وائس چانسلر کی تقرری کیلئے جلد ہی سرچ کمیٹی قائم کی جائے گی ۔عالیہ یونیورسٹی کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی ایک طویل مدت وائس چانسلر کے بغیر نہیں چل سکتی ہے۔اس وقت کارگزار وائس چانسلر ہیں وہ اپنے طور پر کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر کئی ایسے فیصلے ہیں جو صرف وائس چانسلر ہی کرسکتے ہیں ۔اس لیے مؤخرکاموں کی فہرست بڑھتی جارہی ہے ۔وائس چانسلر کے بغیر یونیورسٹی کا معیار گرجاتا ہے ۔اساتذہ نے کہا کہ وائس چانسلر کی عدم موجودگی سے صرف طلباء کو ہی نہیں بلکہ اساتذہ کو بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔کئی پروفیسر حضرات جو اسکالر شپ کیلئے درخواست دے رکھی ہے ان کا کام وائس چانسلر کی غیر موجودگی کی وجہ سے نہیں ہورہا ہے ۔کیوں ان فارموں پر واس چانسلر کے دستخط کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس کے علاوہ کئی اہم فیصلے وائس چانسلر کے نہیں ہونے کی وجہ سے ملتوی ہے ۔

بنگال کی واحد اقلیتی یونیورسٹی عالیہ یونیورسٹی میں گزشتہ چار مہینے سے وائس چانسلر نہیں ،کئی اہم فیصلے ٹھپ

یونیورسٹی کے اساتذہ کو خدشہ ہے کہ عالیہ یونیورسٹی کووزارت اعلیٰ تعلیم کے ماتحت کرنے کی سازش ہورہی ہے۔چوں کہ اس وقت یہ یونیورسٹی وزارت اقلیتی امور اور مدرسہ تعلیم کے تحت ہے اس کی وجہ سے اقلیتی طبقے کو بڑے پیمانے پر داخلے مل جاتے ہیں اور اگروزارت اعلیٰ تعلیم کے تحت یہ یونیورسٹی جاتا ہے تو پھر اس کا اقلیتی کردار خطرے میں آسکتا ہے اور یہاں بھی دیگر یونیورسٹیوں کی طرح ریزرویشن پالیسی نافذ ہوسکتی ہے۔تاہم اساتذہ کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ وزارت اعلیٰ تعلیم کے تحت لانے کی خبر محض افواہ ہے ۔گزشتہ سال بھی اسی طرح کی خبریں گردش کی تھیں ۔

صرف وائس چانسلر کی تقرری کا اختیار وزارت تعلیم کو دیا گیا ہے اور ممکن ہے کہ وزارت تعلیم اور وزارت اقلیتی امور کے درمیان تال میل نہیں ہونے کی وجہ سے وائس چانسلر کی تاخیر میں دیری ہورہی ہوگی۔خیال رہے کہ وزارت تعلیم کے انچار ج پارتھو چٹرجی ہیں اور وزارت اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بذات خود دیکھ رہی ہیں ۔

دوسر ی جانب کارگزار وائس چانسلر و رجسٹراڈ ڈاکٹر نوشاد علی نے وزارت تعلیم اور وزارت اقلیتی امور سے رابطہ کرکے درخواست کی ہے کہ جلد سے جلد وائس چانسلر کی تقرری کی جائے ۔ دوسری جانب وزارت اقلیتی امور کے وزیر مملکت غیاث الدین ملا نے کہا کہ وزارت کا چارج وزیرا علیٰ کے پاس ہے اور ان دنوں وہ بہت ہی زیادہ مصروف ہیں مگرمجھے یقین ہے کہ اس مہینے کے اخیر تک وائس چانسلر کی تقرری ہوجائے گی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز