حکومت مغربی بنگال اردو اسکولوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام

Jul 19, 2017 06:57 PM IST | Updated on: Jul 19, 2017 06:57 PM IST

کولکاتہ۔  مغربی بنگال میں 2011ء میں ترنمول کانگریس کی تاریخی جیت کے بعد حکومت میں آئی تبدیلی کے 6 برس گزرجانے کے بعد بھی حکومت اردو اسکولوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے ۔ ریاستی اقلیتی کمیشن کی جانب سے گزشتہ 6 برسوں سے اس معاملے میں حکومت سے اقدامات کی اپیل کے باوجود اردو میڈیم اسکولوں کے مسائل اپنی جگہ برقرار ہیں ۔ حکومت کمیشن کی نئی کمیٹی کا اعلان جلد ہی کرنے والی ہے۔  امید کی جا رہی ہے کہ سابق ایم پی ابوعیش منڈل کو کمیشن کے چیئرمین کے عہدے پر بحال کیا جائیگا ۔

مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی 30 فیصد ہے، جن میں اردو بولنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے ۔ ریاست میں اردو آبادی کے پیش نظرحکومت نے کولکاتا سمیت ریاست کے دس فیصد اردو آبادی والے اضلاع میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا ہے لیکن اردو تعلیم کے اہم مسائل جوں کے توں ہی ہیں ۔ اسکولوں میں 4 پوسٹیں  ایس سی و ایس ٹی کے لئے ریزرور ہیں جن میں آج تک کبھی تقرری نہیں ہو پائی ۔ مسلمانوں میں ایس سی۔ ایس ٹی طبقہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ بحالی کھٹائی میں پڑی ہے ۔ ایسے میں اردو داں طبقے سمیت ریاستی اقلیتی کمیشن نے بھی حکومت سے اس پوسٹ کو ڈی ریزرو کرنے کی سفارش کی ہے۔ لیکن مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا اعتراف کرنے والی موجودہ حکومت بھی اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام ہے ۔

حکومت مغربی بنگال اردو اسکولوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام

جسٹس انتاج علی شاہ، چیئرمین : مغربی بنگال اقلیتی کمیشن

ریاستی اقلیتی کمیشن کی موجودہ کمیٹی کی میعاد 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے ۔ 6 سال تک کمیشن کے چیئرمین رہے انتاج علی شاہ نے اس اہم مسئلے میں کمیشن کو کامیابی نہ مل پانے کو افسوسناک بتایا ۔  کمیشن کی موجودہ کمیٹی گرچہ ریاست میں اپنے کئی اہم کاموں کے لئے جانی جاتی ہے لیکن ریاست کی جیلوں میں سب سے زیادہ مسلم قیدیوں پر کمیشن نے ہی سوال اٹھایا تھا اور حکومت سے جلد ٹرائل کی اپیل کی تھی۔ ساتھ ہی شہر کی ایک معروف کمپنی میں داڑھی رکھنے والے مسلم نوجوانوں کو نوکری سے برخاست کرنے کے معاملے میں بھی کمیشن نے مداخلت کرکے کمپنی کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا تھا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز