وزیر اعظم اگر اپنی سیکورٹی ہٹانے کو تیار ہیں تو میں بھی اپنی گاڑی سے لال بتی ہٹا دوں گا: امام برکتی

May 13, 2017 11:58 AM IST | Updated on: May 13, 2017 11:58 AM IST

کلکتہ۔ لال بتی والی گاڑی کے استعمال پر مصر کلکتہ کے ٹیپوسلطان مسجد کے امام مولانا نور الرحمن برکتی نے کہا ہے کہ وہ اپنی گاڑی سے لال بتی ہٹانے کو اس شرط پر تیار ہیں جب وزیر اعظم اور دیگر مرکزی وزراء اپنی سیکورٹی میں تعینات جوانوں کو ہٹانے کا فیصلہ کریں گے ۔ یکم مئی سے ملک بھر میں وی آئی پی کلچر کے خاتمہ کیلئے گاڑیوں سے لال بتی ہٹانے کے مرکزی حکومت کے اس فیصلہ کو ٹیپو سلطان مسجد کے امام مولانا نور الرحمن برکتی نے انکار کردیا ہے۔ گرچہ ان کے اس اعلان کی خود مسلم حلقے سے سخت نکتہ چینی کی جا رہی ہے۔آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے میڈیا کے ذریعہ انہیں کھلا خط جاری کرتے ہوئے نصیحت کی کہ منصب امام لال بتی سے کہیں زیادہ بڑا ہے ۔ اس لیے وہ منصب امامت کے تقدس کا خیال رکھیں ۔

جمعہ کی نماز کے بعد مسجد کے احاطے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ ملک میں وی آئی پی کلچر کے خاتمہ کیلئے پہلے وزیر اعظم مودی اور ان کے کابینی وزراء پہلے اپنے سیکورٹی گارڈ اور بلیک کمانڈو ہٹائیں ۔ ہیلی کاپٹر کا استعمال کرنا بند کردیں اس کے بعد میں بھی اپنی گاڑی سے لال بتی ہٹا لوں گا۔ مولانا برکتی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے انہیں گاڑی سے لال بتی ہٹانے کو نہیں کہا ہے ۔

وزیر اعظم اگر اپنی سیکورٹی ہٹانے کو تیار ہیں تو میں بھی اپنی گاڑی سے لال بتی ہٹا دوں گا: امام برکتی

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز