مغربی بنگال: 4 سال بعد سپریم کورٹ نے مدارس میں اساتذہ کی تقرری پر عائد پابندی ہٹائی

Jun 14, 2018 11:54 AM IST | Updated on: Jun 14, 2018 11:54 AM IST

چار سالہ پابندی کے بعد ایک بار پھر سے مغربی بنگال کے مدارس میں اساتذہ کی تقرری کو سپریم کورٹ سے ہری جھنڈی مل گئی ہے۔ سال 2014 میں کلکتہ ہائی کورٹ نے تقرری پر یہ کہتے ہوئے روک لگا دی تھی کہ مغربی بنگال مدرسہ سروس کمیشن غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

سپریم کورٹ کے اس حکمنامہ کے بعد مغربی بنگال میں 614 سرکاری امداد یافتہ مدارس 2600 اساتذہ کا تقرر کر سکیں گے۔ سپریم کورٹ کا یہ عبوری حکم ہے۔ مامعلہ کی اگلی سماعت 12 جولائی کو ہوگی۔

مغربی بنگال: 4 سال بعد سپریم کورٹ نے مدارس میں اساتذہ کی تقرری پر عائد پابندی ہٹائی

علامتی تصویر

آپ کو بتا دیں کہ سال 2014 میں اساتذہ کی تقرری کے لئے بورڈ نے نتائج کا اعلان کیا تھا جس کے تحت 2،600 سے زائد اساتذہ کی تقرری کی جانی تھی، لیکن ہائی کورٹ کے حکم کے بعد اس پر روک لگا دی گئی تھی۔ اب سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کوئی نئی بھرتی نہیں کی جائے گی اور انہیں ہی نوکری پر بلایا جائے گا۔

جسٹس ارون مشرا اور ادے یو للت کی بینچ نے "بچوں کی تعلیم کے مفاد" کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ بینچ نے فرمان صادر کرتے ہوئے کہا کہ "اساتذہ کی شدید کمی کی وجہ سے تعلیم متاثر ہو رہی تھی۔ قانونی داو پیچ میں یہ کیس پھنسا تھا۔

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز