بنگال پنچایت الیکشن: تشدد میں 13 کی موت، وزارت داخلہ نے ریاستی حکومت سے رپورٹ طلب کی

May 14, 2018 11:33 PM IST | Updated on: May 14, 2018 11:33 PM IST

کلکتہ: مغربی بنگال میں پیر کو ہوئے تشدد کے واقعات کے درمیان پنچایت الیکشن ہوگئے۔ جگہ جگہ ہوئے تشدد کے جھڑپوں میں کم از کم 13 لوگوں کے مارے جانے کی خبر ہے۔ 50 سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے پنچایت الیکشن کے دوران ہوئے تشدد کو لے کر ریاست کی ممتا بنرجی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ یچوری نے کہاکہ ٹی ایم سی حکومت نے الیکشن کے دوران تشدد کا ماحول بنایا۔ ووٹنگ کے دوران ہوئے تشدد کو لے کر وزارت داخلہ نے ریاستی حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے۔ واضح رہے کہ پنچایت الیکشن کے نتائج 17 مئی کوآئیں گے۔

بنگال پنچایت الیکشن: تشدد میں 13 کی موت، وزارت داخلہ نے ریاستی حکومت سے رپورٹ طلب کی

پنچایت الیکشن میں تشدد کے خدشہ کو دیکھتے ہوئے اس کے قبل کلکتہ ہائی کورٹ کے ایک وکیل نے چیف جسٹس جے بھٹہ چاریہ کو ایک ویڈیو دکھا یاتھا۔ وکیل نے چیف جسٹس سے پرامن انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے ریاستی الیکشن کمیشن اور ریاست کے داخلہ سکریٹری کو طلب کرنے کی اپیل بھی کی تھی، جسے چیف جسٹس نے خارج کردیا تھا۔ اس کے بعد پیر کو ووٹنگ کے دوران جگہ جگہ سے تشدد کی خبریں آئیں۔

سیتا رام یچوری نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال میں برسراقتدار کانگریس نے پنچایت انتخابات کے دوران دہشت کا ماحول پیدا کردیا۔ انہوں نے ترنمول کانگریس کا یہ تبصرہ خارج کردیا کہ کمیونسٹوں کے دوراقتدار کے دوران بھی تشدد کے واقعات ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو ممتا بنرجی ریاست میں کبھی اقتدار میں نہیں آتی۔ وہ ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیریک اوبرائن کے تبصرہ کے بعد ردعمل ظاہر کررہے تھے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ریاست میں پنچایت الیکشن مین تشدد کی تاریخ رہی ہے اور کمیونسٹوں کے دواقتدار میں  تشدد کے واقعات کم ہوئے۔

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز