افرازالاسلام کے قتل کے بعدمالدہ ، مرشدآباد اور دیگر اضلاع کے ورکرس انتہائی خوفزدہ ، لوٹ رہے ہیں گھر

مغربی بنگال کا مالدہ ، مرشدآباد اور شمالی دیناج پور اضلاع بنگال کا مسلم اکثریتی علاقہ ہے ۔

Dec 13, 2017 04:21 PM IST | Updated on: Dec 13, 2017 04:23 PM IST

مالدہ: مغربی بنگال کا مالدہ ، مرشدآباد اور شمالی دیناج پور اضلاع بنگال کا مسلم اکثریتی علاقہ ہے ۔ انتہائی پسماندہ اور غربت زدہ علاقہ ہونے کے ساتھ ۔بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اس علاقے کے باشندوں کو مختلف قسم کے مسائل و مشکلات کا سامنا ہے ۔ فیکٹری اور کارخانے نہیں ہونے کی وجہ سے ان اضلاع میں روزگار کے مواقع نہیں ہیں۔ساتھ ہی اعلیٰ تعلیم سے محرومی کی وجہ سے ان علاقوں کے بیشتر افراد اپنا گھر چلانے کیلئے راجستھان، مدھیہ پردیش، آندھرا پردیش اور ملک کی دوسری ریاستوں میں راج مستری اور تعمیراتی پروجیکٹ میں مزدوری کا کام کرتے ہیں ۔راجستھان کے راجسمند ضلع میں افرازل خان کے قتل کے بعدورکروں کی سیکورٹی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے ۔ 8دسمبر کے بعد بڑی تعداد میں ورکرس اپنے اپنے گھرواپس آرہے ہیں ۔

بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل کالیا چک کا یہ علاقہ مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے۔مقتول افرازل کے گاؤں سید پور میں چند گھرانے ہی خوش حال ہیں زیادہ تر گھروں کے مرد حضرات باہر کام کرتے ہیں۔سید پور گاؤں کے ایک باشندے عقیل جو خود بھی راج سمند میں مزدوری کاکام کرتے ہیں نے بتایا کہ 8دسمبر کو یہ واقعہ پیش آنے کے بعد اب تک راجسمند ضلع سے کئی درجن افرا گاؤں واپس آچکے ہیں اور کئی لوگ دہلی اور دیگر جگہ چلے گئے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ صرف سید پور گاؤں میں اب تک30سے 40لڑکے واپس آچکے ہیں ۔اس نے بتایا کہ اس کے آس پاس کے گاؤں کے لوگ بھی واپس آچکے ہیں ۔

 افرازالاسلام کے قتل کے بعدمالدہ ، مرشدآباد اور دیگر اضلاع کے ورکرس انتہائی خوفزدہ ، لوٹ رہے ہیں گھر

راجستھان کے راجسمند میں افراز الاسلام خان کے قتل کے بعدورکروں کی سیکورٹی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے ۔ تصویر میں قتل کا ملزم شمبھو لال ۔ فائل فوٹو

ایک نوجوان لڑکے نے بتایا کہ چوں کہ راجستھان اور دیگر ریاستوں میں تعمیراتی کام زیادہ ہوتے ہیں اور ہمیں خالی نہیں بیٹھنا پڑتا ہے اس لیے ہم لوگ وہاں کام کرنے کیلئے جاتے ہیں۔اس نے بتایاکہ اور ہمیں کام اس لیے زیادہ ملتے ہیں کہ ہم لوگ بہت ہی کم روپے مزدوری پر کام کرتے ہیں ۔ ایک پرائیوٹ پرائمری اسکول میں پڑھانے والے اشفاق عالم جو سید پور گاؤں کے باشندے ہیں اور افراز ل خان سے ملنے کیلئے آنے والے سیاسی لیڈروں ، میڈیا اہلکاروں اور سماجی کارکنوں سے بات کرتے ہیں اور اس خاندان کی ترجمانی کرتے ہیں نے یواین آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد روزگار کا مسئلہ سب سے زیادہ سنگین ہوجاتا ہے کیوں کہ زیادہ پڑھنے کے بعد مزدوری کرنے سے لڑکے ہچکچاتے ہیں اور وہ بے روزگار بن کر والدین کیلئے بوجھ بن جاتے ہیں۔اس لیے زیادہ تروالدین اپنے بچوں کو10ویں تک تعلیم دلانے کے بعد راجستھان، مدھیہ پردیش ، گجرات اور آندھرا پردیش جیسے علاقوں میں مزدوری کرنے بھیج دیتے ہیں ۔مگر جب انہیں سیکورٹی نہیں ملے گی تو وہ اب کہاں جائیں گے اور کیا کریں گے۔

ماسٹر اشفاق نے بتایا کہ پہلے کے مقابلے یہاں تعلیم کے حصول کارجحان پیدا ہوا ہے۔لڑکیاں دسویں تک تعلیم حاصل کررہی ہیں ۔اس پورے بلاک میں ایک ہی دو ہائی اسکول اور ایک ہی کالج ہے وہ بھی یہاں کافی دور ہے اس لیے دسویں سے آگے تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت ہی کم ہوجاتی ہے۔انہوں نے بتایاکہ اگر دسویں میں 100بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں تو بارہویں میں یہ گھٹ کر 50ہوجاتے ہیں اور کالج پہنچتے پہنچتے 25افراد ہی رہ جاتے ہیں۔ اشفاق نے بتایا کہ بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب یہ علاقہ ہونے کی وجہ سے ان ورکروں کو شک کی نظر سے بھی دیکھاجاتا ہے ۔کبھی بھی بنگلہ دیشی ہونے کی شک میں گرفتار کرلیے جاتے ہیں ۔مگر سوال یہ ہے کہ غربت کے شکار افراد کیلئے سب سے بڑی ترجیح اپنے گھرکے لوگوں کو کھانا کھلانا ہوتا ہے ایسے یہ لوگ جہاد کیا کریں گے اور کیا ’لو ‘(محبت)کریں گے۔

Loading...

انہوں نے بتایا کہ لڑکوں کے مقابلے لڑکیاں زیادہ تعلیم حاصل کررہی ہے اور اسی گاؤں کی کئی لڑکیاں بارہویں مکمل کی ہیں انہیں کنیا شری اسکیم کے تحت ریاسی حکومت سے روپے بھی ملے ہیں۔چوں کہ کالج یہاں کافی دور ہے اس لیے وہاں جاکر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا کافی مشکل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد شادی کا بھی مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے کیوں کہ لڑکیوں کے مقابلے تعلیم یافتہ لڑکوں کی تعداد بہت ہی کم ہے ۔ مقتول افرازل کے گھر کے قریب ہی ایک مکان کی مکین 18سالہ زبیب النساء جو افرازل خان کی چھوٹی بیٹی حبیبہ کی سہیلی بھی ہے اور ہم جماعت بھی نے بتایا کہ ہم لوگ تو پڑھ رہے ہیں مگر ہمارے پڑھنے کا کیا فائدہ ہوگا ۔حکومت ہمیں نوکری نہیں دیتی اور گھر کے لوگ کہتے ہیں کہ زیادہ پڑھنے کے بعد شادی میں دشواری ہوگی کیوں کہ ہمارے آس پاس کے گاؤں کے زیادہ تر لڑکے زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے بعدراجستھان اور دیگر علاقوں میں راج مستری یا پھر مزدوری کاکام کرتے ہیں۔اگر حکومت روزگار دے گی تو یہ لوگ کیوں باہر جائیں گے ؟۔افرازل خان سے متعلق زبیب النساء نے بتایا کہ وہ بہت ہی اچھے تھے اور ان کے پاس صرف تین ہی بیٹیاں تھیں مگر وہ اپنے بیٹیوں کو بیٹے کی طرح مانتے تھے اور کہتے تھے ان کی بیٹیاں جتنی تعلیم حاصل کرنا چاہے گی وہ اس کیلئے تیار ہیں۔

ماسٹر اشفاق نے بتایا کہ گرچہ اب لڑکیوں کی شادی 20سال میں کردی جاتی ہے مگر شعور اور علم نہیں ہونے کی وجہ سے اب اس علاقے میں 15 اور 16 سال کی عمر میں بھی لڑکیوں کی شادی کردی جاتی ہیں۔ خیال رہے کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کا براہ راست اثر ان مزدوروں پر نہیں پڑا تھا مگر نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد تعمیراتی کاموں اور فیکٹریوں میں کام کم ہونے کی وجہ سے مالدہ ، مرشدآباد اور آس پاس کے اضلاع کے ہزاروں ورکرس بے روزگار ہوکر گھر لوٹ گئے تھے مگر اب حالات میں سدھار آنے کے بعد وہ دوبارہ کام پر لوٹ رہے تھے مگر اس واقعے نے انہیں ہلاکر رکھ دیا ہے ۔گاؤں کے لوگوں کا کہنا تھا کہ افرزال خان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ ایک غریب، مزدور اور مسلمان تھا۔باقی کچھ بھی نہیں تھا شمبھولال کو اپنے اس کام کیلئے افرازل مل گیا تھا اگر وہ نہیں ملتا تو کوئی اور شکار ہوتا۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز