علاقہ کی اقلیت ہر محاذ پرخستہ حال، محمد تسلیم الدین کے بعد اب سیمانچل کا کون ہوگا لیڈر ؟

Sep 28, 2017 08:31 PM IST | Updated on: Sep 28, 2017 08:31 PM IST

پٹنہ :مسلم پولٹیکل کونسل آف انڈیا اورسیمانچل میڈیا منچ کے زیر اہتمام پٹنہ میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ ایک شام سیمانچل گاندھی کےعنوان سے منعقد پروگرام میں خاص طور سے یہ سوال کھڑا کیا گیا کی تسلیم الدین کے بعد اب سیمانچل کا لیڈر کون ہوگا اورکون سیمانچل کی جدوجہد کے لئے تسلیم الدین کی طرح آواز اٹھائےگا۔ حکومت کی جانب سے سیمانچل کی ترقی کا بار بار نعرہ لگایا گیا ، لیکن اب تک زمین پر سیاسی گلیاروں کا نعرہ محض ہوا ہوائی ہی ثابت ہوتا رہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ کشن گنج میں اے ایم یو کا برانچ بھی پوری طرح سے قائم نہیں ہو سکا جبکہ اب ریاست سے لے کر مرکز تک ایک ہی اتحاد کی حکومت ہے۔

بہار میں اقلیتوں کی بڑی آبادی کا مرکز سیمانچل آزادی کی سات دہائی بعد بھی اپنی بدحالی پر آنسو بہا رہا ہے۔ سیمانچل کے گاندھی کے نام سے مشہور محمد تسلیم الدین کا حال ہی میں انتقال ہوگیا وہ ارریہ کے ممبر پارلیمنٹ تھے۔ کشن گنج، ارریہ، پورنیہ اور کٹیہار میں تسلیم الدین کی جدوجہد کی تصویریں دیکھائی دیتی ہیں۔ تسلیم الدین جس پارٹی میں رہے وہ پارٹی سیمانچل میں کامیاب رہی ، لیکن کسی بھی پارٹی نےعلاقہ کی ترقی کے معاملہ میں سنجیدہ کوشش نہیں کی۔

علاقہ کی اقلیت ہر محاذ پرخستہ حال، محمد تسلیم الدین کے بعد اب سیمانچل کا کون ہوگا لیڈر ؟

تسلیم الدین پوری زندگی علاقہ کے مسا ئل کو لے کر لڑتے رہے ، لیکن اب ان کا انتقال ہوگیا اور اسی کے ساتھ سیمانچل کی قیادت اہل علم کے سامنے ایک بڑا سوال بن کر کھڑا ہے۔ پٹنہ میں منعقد ہ اس پروگرام میں اس سوال کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز