مغربی بنگال کے شعبہ تعلیمات میں اردو زبان والوں کو کوئی خصوصی سہولت میسر نہیں

Feb 05, 2017 05:17 PM IST | Updated on: Feb 05, 2017 05:17 PM IST

کولکاتہ / آسنسول۔ مغربی بنگال ریاست کے اردو طلبہ لسانی عصبیت کا شکار ہیں ۔ ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ تو حاصل ہے لیکن شعبہ تعلیمات میں اردو زبان والوں کو کوئی مراعات میسر نہیں ہے ۔ سرکاری ٹیسٹ پیپرس سے  بھی اردوغائب ہے۔ مغربی بنگال  میں  گرچہ وزیراعلی ممتا بنرجی نے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیئے جانے کا بل  پاس کر دیا ہے لیکن تعلیم کے میدان میں اردو زبان والے  طلبہ کو کسی طرح کی کوئی سہولت نہیں ہے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے میٹریکولیشن کےامتحانات  میں شرکت کرنے والے طلبا و طالبات میں مفت ٹسٹ پیپرس کی تقسیم  کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے لیکن یہ ٹیسٹ پیپرس اردو طلبہ کے لیے ردی سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے ۔ اس لئے کہ ریاستی حکومت کی جانب  سے غیر بنگلہ طلبہ کو بنگلہ زبان پڑھانے کا کوئی بندوبست نہیں ہے لیکن  میٹریکولیشن 2017 کے امتحانات میں شرکت کرنے والے طلبہ کو ٹیسٹ پیپرس مفت فراہم کئے جارہے ہیں ، اس میں مادری زبان اردو کا کوئی سوالنامہ نہیں ہے اور دیگر مضامین کے جو سوالنامے شامل کیئے گئے ہیں ان میں زیادہ تعداد  بنگلہ زبان کے سوالناموں کی ہے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے اس طرح کی لسانی عصبیت سے طلبہ دلبرداشتہ ہیں۔ طالبات نے اپنے تاثرات میں جہاں اپنی پریشانیوں کو بیان کیا وہیں اساتذہ ایک طرف نمونہ سوالناموں پر مشتمل ٹیسٹ پیپرس کی مفت تقسیم کا استقبال کررہے ہیں ۔

ریاستی حکومت کی جانب سے اردو طلبہ کی محرومی  کی شکایت  پر آسنسول میونسپل کارپوریشن  کے اپوزیشن لیڈر  وسیم الحق ( سی پی ایم  )  سے ان کے تاثرات لیے گئےتو انہوں نے ممتا بنرجی کی حکومت پر مسلمانوں سے دھوکہ کرنے کا الزام عائد کیا ۔ آسنسول میونسپل کارپوریشن کے اقلیتی فلاح و سی پی ایم  ضلعی لیڈر کے رکن میئر ان کونسل میر ہاشم ( ترنمول کانگریس لیڈر ) سے اس سلسلے میں تاثرات حاصل کیئے گئے توانہوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے  میں ریاستی حکومت سے جانکاری حاصل کریں گے ۔

مغربی بنگال کے شعبہ تعلیمات میں اردو زبان والوں کو کوئی خصوصی سہولت میسر نہیں

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز