چھ سال کی قید و بند کی صعوبت کے بعد مصر کے سابق صدر حسنی مبارک رہا

حسنی مبارک کو 2011 میں عرب بہاریہ کے نتیجے میں برطرف کیا گيا تھا

Mar 24, 2017 06:55 PM IST | Updated on: Mar 24, 2017 06:55 PM IST

قاہرہ: مصر کے سابق معزول صدر حسنی مبارک کو آج چھ سال کی قید و بند کے بعد رہا کردیا گيا ۔ یہ اطلاع ان کے وکیل نے دی ہے۔ حسنی مبارک کو 2011 میں عرب بہاریہ کے نتیجے میں برطرف کیا گيا تھا اور دنیائے عرب میں ہلچل مچانے والے عوامی مظاہرے کے بعد حسنی مبارک پہلے لیڈر ہیں جنہیں عدالتی کارروائي کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اطلاع کے مطابق مصر کی اعلیٰ عدالت کی جانب سے سابق صدر حسنی مبارک کو2011 کی عرب اسپرنگ (عرب بہاریہ) میں ہونے والی ہلاکتوں کے مقدمات سے بری الزمہ قرار دیے جانے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

چھ سال کی قید و بند کی صعوبت کے بعد مصر کے سابق صدر حسنی مبارک رہا

حسنی مبارک کے وکلا کا کہنا ہے کہ سابق صدر جنوبی قاہرہ میں واقع فوجی اسپتال سے قاہرہ کے مضافات میں واقع اپنے مکان میں منتقل ہو گئے ہیں۔ حسنی مبارک نے انور سادات کےقتل کے بعد صدر کا عہدہ سنبھالا تھا اور تقریبا 30 سال اقتدار سنبھالنے کے بعد چھ سال قبل وسیع پیمانے پر ہونے والے عوامی مظاہرے کے سبب ان کا تختہ پلٹ دیا گیا تھا۔

حسنی مبارک کو 2013 میں ضمانت ملنے کے بعد جیل سے فوجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ ان کو 2012 میں فروری 2011 میں مظاہرین کو سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک کروانے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔اس سزا کے بعد ایک دوسرے مقدمے میں جج نے مئی 2015 میں فیصلہ سنایا تھا کہ حسنی مبارک کو حراست سے رہا کیا جا سکتا ہے۔

تاہم صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت عوامی ردعمل کے خوف سے ان کو رہا کرنے کے حق میں نہیں تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز