ریفرنڈم پر تنقید مغربی ممالک کی کج رویانہ ذہنیت کا غماز: طیب اردوغان

Apr 18, 2017 11:50 AM IST | Updated on: Apr 18, 2017 11:50 AM IST

انقرہ / استنبول۔  یورپی ممالک کی جانب سے ترکی میں صدر کی ایگزیکٹو اختیارات کو بڑھائے جانے کے سلسلے میں ہونے والے ریفرنڈم پر تنقید کرنے کو صدر طیب اردوغان نے مغربی ممالک کی مبینہ’سماجی مصلح ذہنیت‘ بتاتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ اس سے پہلے ریفرنڈم میں فاتح ہونے کے بعد استنبول میں اپنی سرکاری رہائش گاہ میں مسٹر اردوغان نے کہا کہ ریفرنڈم میں فتح کے بعد حکومت میں فوجی مداخلت کے ترکی کی طویل تاریخ کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہمارے حق میں 2.5 کروڑ ووٹ ملے جو مخالف خیمے سے 13 لاکھ سے زائد ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا، ’’ترکی نے اپنی تاریخ میں پہلی بار اس طرح کی ایک اہم تبدیلی پر پارلیمنٹ اور لوگوں کی خواہش جاننے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترکی جمہوریہ کی تاریخ میں پہلی بار ہم شہری حکومت کے ذریعے اپنی حکمرانی کے نظام کو تبدیل کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بہت اہم ریفرنڈم ہے‘‘۔ صدر اردگان نے تعریف کرتے ہوئے اس کو 'تاریخی فیصلہ' قرار دیا۔اردگان کا کہنا تھا کہ 'عوام کے ساتھ مل کر ہم نے اپنی تاریخ میں اہم اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا'۔

وہیں ترکی میں اہم اپوزیشن پارٹی ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) کے سربراہ كمال كلك ڈاروگلو نے بھی ریفرنڈم کی قانونی حیثیت پر سوال کھڑے کئے ہیں۔ مسٹر كلك ڈاروگلو نے کہا کہ جن لوگوں نے حق میں ووٹ ڈالا ہے ایسا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے قانون کی حدود سے باہر جا کر ریفرنڈم کی حمایت کی ہو۔ انہوں نے کہا ’’ہماری پارٹی کو جب یہ پتہ چلا تھا کہ بغیر مہر لگے ووٹ کی گنتی ہو رہی ہے تو ہم نے پہلے ہی 60 فیصد ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس نتیجے کے بعد بے لگام قیادت کو فروغ حاصل ہوگا‘‘۔ ترکی کے سرکاری خبررساں ادارے اناطولو یا کے مطابق 99.5 فی صد بیلٹ بکس کی گنتی کے نتائج کے مطابق تاریخی ریفرنڈم کے دوران 'ہاں' میں 51.4 فی صد جبکہ 'نہیں' میں 48.6 فی صد ووٹ ڈالے گئے جبکہ ٹرن آؤٹ 85 فی صد رہا۔سپریم الیکشن بورڈ کے سربراہ سعدی گووین نے ریفرنڈم کی کامیابی کی تصدیق کی لیکن مخالفین نے نتائج کو چیلنج کرنے کا عندیہ دیا۔

ریفرنڈم پر تنقید مغربی ممالک کی کج رویانہ ذہنیت کا غماز: طیب اردوغان

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان: فائل فوٹو

جیت کا جشن منانے کے لیے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہاتھوں میں جھنڈے تھامے سڑکوں پر نکل آئی جبکہ دوسری جانب استنبول کے اردگان مخالف علاقے میں مظاہرین نے برتن اور کچن کی اشیا اٹھائے ہوئے منفرد انداز میں اپنی ناخوشی کا اظہار کیا جبکہ بیسکتاس اور کیدوکوئے میں بھی سیکڑوں افراد نے احتجاج کیا۔ اردگان کو ریفرنڈم میں کامیابی کے لیے بھاری ووٹ ملے لیکن ایجین اور بحیرہ روم کے ساحلی اور کردوں کے اکثریت والے علاقوں میں ریفرنڈم کے خلاف ووٹ دیا گیا۔ترک صدر کے لیے مایوس کن لمحہ یہ ہے کہ ان کے آبائی شہر استنبول اور دارالحکومت انقرہ جبکہ تیسرے شہر ازمیر میں مخالف مہم کو معمولی فرق سے برتری حاصل رہی۔ لیکن ووٹنگ کے عمل نے واضح کردیا کہ اختیارات کی تبدیلی کےمعاملے میں ترکی بری طرح تقسیم ہے جبکہ ملک کے تین بڑے شہروں میں’نہیں‘ مہم کو کامیابی ملی۔ قابل ذکر ہے کہ ریفرنڈم میں فتح حاصل کرنے کے بعد مسٹر اردوغان اب نئے قوانین کے تحت زیادہ سے زیادہ 2029 تک صدر رہ سکتے هیں ۔ ریفرنڈم کے نتائج کے ساتھ ہی آئینی تبدیلی کو منظوری مل گئی اور جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اور عصمت انونو کے بعد کسی ترک حکمران کو اس قدر وسیع اختیارات حاصل ہوگئے۔ 1952 میں نیٹو میں شامل ہونے والے اور گزشتہ نصف صدی سے یورپین یونین میں شمولیت کی کوشش کرنے والے ملک ترکی پر ان نتائج کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

حزب اختلاف جماعتوں نے مسٹر اردوغان پر ترکی میں آمریت لاگو کرنے کے الزام لگائے ہیں۔ نیٹو ملک ترکی کی سرحد ایران، عراق اور شام سے ملحق ہیں جس کی وجہ سے یہاں استحکام اور امن برقرار رکھنا امریکہ اور یورپی یونین دونوں کے لئے ہی اہم ہے۔ دریں اثنا وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کرکے بتایا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مسٹر اردوغان کو فون کر کے ریفرنڈم میں فتح یاب ہونے پر مبارک باد دی ہے۔ مسٹر ٹرمپ نے شام میں امریکی میزائل حملے کی حمایت کرنے کے لئے شکریہ ادا بھی کیا۔ بیان کے مطابق مسٹر ٹرمپ اور مسٹر اردوغان کے درمیان شام میں کیمیائی حملے کے لئے صدر بشار الاسد کو ذمہ دار ٹھہرانے کو لے کر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان اسلامک اسٹیٹ کے خلاف کارروائی کرنے کے سلسلے میں بھی بات چیت ہوئی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز