شام کے 16 سائنسداں اور فوجی حکام پر یوروپی یونین کی پابندی عائد

Jul 17, 2017 09:01 PM IST | Updated on: Jul 17, 2017 09:01 PM IST

بروسلز: یورپی یونین نے شمالی شام کے پناہ گزیں کیمپ پر کیمیائی گیس حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں 16 شامی سائنسدانوں اور فوجی افسران پر پابندی عائد کی ہے۔ اس حملے میں سیکڑوں شامی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بشار الاسد حکومت پر یہ کہتے ہوئے کیمیائی حملے کا الزام لگایا ہے کہ علاقہ کے باغیوں میں کیمیائی حملے کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ بین الاقوامی کیمیائی ہتھیاروں کے نگراں گروپ نے اس سال جون میں کہا تھا کہ حملے میں گیس سیرن کا استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم، شامی حکام نے مسلسل ممنوعہ کیمیائی حملے سے انکار کیا ہے۔

شامی سائنسدانوں اور فوجی حکام پر پابندی عائد کرنے کا یہ فیصلہ بروسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ یونین نے اس سلسلے میں آٹھ شامی سائنسدانوں اور شام کے آٹھ سینئر فوجی افسران کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیا ہے۔

شام کے 16 سائنسداں اور فوجی حکام پر یوروپی یونین کی پابندی عائد

FILE PHOTO : reuters

برطانیہ کے وزیر خارجہ بوریس جانسن نے کہا کہ "یوروپی یونین کا یہ قدم ظاہر کرتا ہے کہ یورپ شام میں کیمیائی حملے میں ملوث افراد کو سزا دلانے کے لئے مصروف عمل ہے۔ یورپی یونین نے ایک بیان میں بتایا کہ ان لوگوں پر پابندی لگانے کے بعد شامی بحران کے سلسلے میں ممنوعہ افراد کی تعداد 255 ہو گئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز