یروشلم معاملہ: ملیشیا کے سابق وزیر اعظم مآثر محمد نے ڈونلڈ ٹرمپ کو لیا آڑے ہاتھوں

ملیشیا کے سابق وزیر اعظم مآثر محمد نے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کی منظوری دینے کے فیصلے پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ’بین الاقوامی داداگیري‘ کرنے والا قرار دیا ہے۔

Dec 16, 2017 09:19 PM IST | Updated on: Dec 16, 2017 09:19 PM IST

کوالالمپور۔ ملیشیا کے سابق وزیر اعظم مآثر محمد نے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کی منظوری دینے کے فیصلے پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ’بین الاقوامی داداگیری‘ کرنے والا قرار دیا ہے۔ مسٹرمآثر محمد نے کل یہاں امریکی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کے دوران کہا کہ مسٹر ٹرمپ کے فیصلے سے دہشت گردی کو فروغ ملے گا۔ ملیشیا میں اپوزیشن اتحاد کے سربراہ مسٹرمآثر محمد نے کہا -’’ آج ہمارے سامنے ایک بین الاقوامی دھمکانے والے ہیں۔ ٹرمپ، کسی ایسے کو ڈھونڈھے جو آپ کےبرابر ہو۔ اس سے (یروشلم کی منصوبہ بندی) صرف مسلمانوں میں ناراضگی بڑھے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کو اپنی پوری طاقت سے مسٹر ٹرمپ کی مخالفت کرنی چاہیے۔ تمام مسلم ممالک کو اسرائیل سے اپنے تعلقات توڑ لینا چاہئے۔ ملیشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکہ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کی دارالحکومت کی منظوری دیئے جانے کا تمام مسلم ممالک کو پرزور مخالفت کرنی چاہیے۔

یروشلم معاملہ: ملیشیا کے سابق وزیر اعظم مآثر محمد نے ڈونلڈ ٹرمپ کو لیا آڑے ہاتھوں

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ: فائل فوٹو۔

Loading...

قابل غور ہے کہ مسٹر ٹرمپ نے گزشتہ سات دہائیوں سے چلی آرہی روایت کو توڑ کر یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کے طور پر منظوری دے دی ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی مسٹر ٹرمپ نے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم لے جانے کا حکم بھی دے دیا۔ اس کے برعکس آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) نے یروشلم کو فلسطین کی راجدھانی کا اعلان کر دیا ہے۔ او آئی سی نے امریکہ کے اس فیصلے کو مغربی ایشیا میں امن کے لئے زبردست جھٹکا بتایا ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز