راولپنڈی عدالت نے سابق پاکستانی صدر آصف علی زرداری کو بدعنوانی کے الزامات سے کیا بری

Aug 27, 2017 06:24 PM IST | Updated on: Aug 27, 2017 06:24 PM IST

اسلام آباد: پاکستان میں راولپنڈی کی ایک عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کو آمدنی سے زیادہ اثاثہ رکھنے کے معاملے میں بری کردیا ہے۔ راولپنڈی کی خصوصی احتساب عدالت نمبر ایک کے جج خالد محمود رانجھا نے ہفتہ کو اثاثہ جات ریفرنس میں نامزد سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری کو 19 سال بعد آخری کیس میں بھی باعزت طور پر بری کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

عدالت نے یہ فیصلہ آصف علی زرداری کی جانب سے بریت کے لئے دائر کردہ درخواست پر وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر جاری کیا ہے۔ اس سے پہلے پانچ ریفرنسز میں بھی احتساب عدالتیں پاکستان کے سابق صدر کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر چکی ہیں۔ ان ریفرنسز میں کوٹیکنا، اے آر وائی گولڈ، اُرسز ٹریکٹرز اور پولو گروانڈ کے ریفرنس بھی شامل تھے۔ آصف علی زرداری کے خلاف اب کوئی بھی ریفرنس احتساب عدالت میں زیر سماعت نہیں ہے۔

راولپنڈی عدالت نے سابق پاکستانی صدر آصف علی زرداری کو بدعنوانی کے الزامات سے کیا بری

اس سے پہلے آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بریت کی درخواست دی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف یہ ریفرنس سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں اور نیب کے پاس کوئی ایسے ثبوت نہیں تھے جن سے ثابت ہوتا ہو کہ آصف علی زرداری نے معلوم ذرائع آمدنی سے زیادہ اثاثے بنائے ہیں۔

اس ریفرنس میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ نصرت بھٹو کے علاوہ سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو بھی شریک ملزم تھیں تاہم ان کی وفات کے بعد ان کے نام اس ریفرنس سے خارج کردیے گئے تھے۔ اس ریفرنس میں استغاثہ کی جانب سے جنتے بھی گواہ پیش کیے گئے ان میں اکثریت کا موقف یہ تھا کہ چونکہ یہ 15 سال پرانا ریفرنس ہے اس لیے وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ملزم نے معلوم ذرائع آمدنی سے زیادہ اثاثے بنائے ہیں۔ اس ریفرنس میں متعدد گواہ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے بھی عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز