اوباما اپنی الوداعی تقریر میں ہوئے جذباتی، کہا، میں امریکی مسلمانوں کے تئیں متعصبانہ نظریہ کو خارج کرتا ہوں

Jan 11, 2017 01:20 PM IST | Updated on: Jan 11, 2017 01:32 PM IST

شکاگو۔ امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے آخری بار ’’ییس وی کین‘‘کہتے ہوئے کل رات اپنی الوداعی تقریر میں شہریوں سے امریکہ کے اقدار کے تئیں کھڑے رہنے اور تعصب کو مسترد کرنے کی اپیل کی۔  اوباما نے اس جذباتی تقریر میں اپنے رشتہ داروں کا شکریہ اداکرتے ہوئے صدر کے عہدے کے اپنے دور حکومت کو اپنی زندگی کا ایسا دور بتایا ہے جس پروہ ہمیشہ نازاں رہیں گے۔ اوباما نے ملک سے لوگوں کےلئے ترقی کرنے والا نظریہ اختیار کرنے اور نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے انتخابات کے دوران تشہیری مہم میں تشہیرکردہ چند پالیسیوں کو مسترد کرنے کی بھی اپیل کی۔  اوباما نے شکاگو میں 18ہزار لوگوں کے بہت بڑے ہجوم کے سامنے دی گئی اپنی تقریر میں کہا،’’ایک شہری کے طورپر اس بات کو یاد رکھتے ہوئے کہ ہم کون ہیں،ہمیں ہمارے اقدار کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والی طاقتوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔‘‘

آئندہ 20جنوری سے امریکہ کے نئے صدر کے طورپر اپنا مدت کار شروع کرنے والے مسٹر ٹرمپ نے اپنی انتخابی تشہیر میں کہا تھا کہ امریکہ عارضی طورپر یہاں مسلمانوں کو آنے سے روکے گا اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرائے جائے گی۔مسٹر ٹرمپ نے ماحولیاتی تبدیلی پر ہوئے عالمی معاہدے اور براک اوباما کے کثیر جہتی صحت سدھار قانون کو رد کرنے کی بات کہی تھی۔  اوباما نے اپنی تقریر میں مسٹر ٹرمپ کی جانب واضح اشارہ کرتے ہوئے کہا،’’میں امریکی مسلمانوں کے تئیں تعصبی نظریے کو خارج کرتا ہوں۔ ان کے اس بیان کے بعد پورا آڈیٹوریم تالیوں کے شور سے گونج اٹھا۔

اوباما اپنی الوداعی تقریر میں ہوئے جذباتی، کہا، میں امریکی مسلمانوں کے تئیں متعصبانہ نظریہ کو خارج کرتا ہوں

تصویر: یو این آئی

انہوں نے کہا، ’’میں نے اپنے دور اقتدار کے دوران کم خرچ میں زیادہ تر لوگوں کو بهترين صحت سہولیات دینے سے متعلق جو اصلاح شدہ ہیں، اگر کوئی اس سے بھی اچھی بہتری لائے گا تو میں اس کی عوامی طور پر حمایت کروں گا۔‘‘ امریکہ میں صدیوں سے چلی آ رہی نسل پرستی کی غیر انسانی سوچ کو تبدیل کرنے اور اس سے متاثر لوگوں کے زخموں پر مرہم لگانے کی لاکھوں لوگوں کی بے حد امیدوں کے درمیان صدر کے طور پر منتخب ہونے کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک طرح کا ناممکن ہدف تھا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بھی ہمارے معاشرے میں نسل پرستی موجود ہے اور یہ ہمارے معاشرے کو تقسیم کرنے والی قوتوں میں سے ایک ہے۔ مسٹر اوباما نے کہا، ’’وہ اب بھی اس کے لئے پرامید ہیں اور یہ انحصار کرتے ہیں کہ نوجوان نسل ایسا کر سکتی ہے۔ جی ہاں، ہم کر سکتے ہیں، جی ہاں، ہم نے ایسا کر دکھایا۔‘‘

اس موقع پر ان کی اہلیہ مشیل اوباما، نائب صدر جو بیڈین، ان کی اہلیہ جِل بیڈین اور وائٹ ہاؤس کے کئی موجودہ اور سابق ملازم موجود تھے۔ مسٹر اوباما نے جذباتی ہونے کے بعد آنسو صاف کرتے ہوئے اپنے اہل خانہ اور ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا۔ یہ دیکھ کر ان کی بیٹی اور بیوی مشیل کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اوباما نے کہا کہ وہ اپنے خاندان کی وجہ سے اچھے صدر بن سکے۔ اوباما اپنی چھوٹی بیٹی ساشا کی اسکول کی تعلیم ختم ہونے تک اگلے دو سال کے دوران واشنگٹن میں ہی رہیں گے۔ مسٹر اوباما کی الوداعی تقریر کے دوران ساشا آڈیٹوريم میں موجود نہیں تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز