یوپی کے مسلمان ٹولیوں میں نہ بٹ گئے ہوتے ، تو ایک کٹر فرقہ پرست شخص وزیراعلیٰ نہ بن جاتا : فاروق عبداللہ

فاروق عبداللہ نے اترپردیش کے نو منتخب وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو کٹر فرقہ پرست شخص قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ریاست میں بی جے پی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت شروع ہوگئی ہے

Mar 25, 2017 07:27 PM IST | Updated on: Mar 25, 2017 07:27 PM IST

بڈگام : نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اترپردیش کے نو منتخب وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو کٹر فرقہ پرست شخص قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ریاست میں بی جے پی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت شروع ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں ہندوستان کی سیکولر عمارت کو منہدم کرنے کے درپے ہیں۔ فاروق عبداللہ نے ہفتہ کو وسطی کشمیر کے قصبہ بڈگام میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یو پی کے مسلمان ٹولیوں میں نہ بٹ گئے ہوتے تو آج وہاں کٹر پنت فرقہ پرست وزیر اعلیٰ اُن کے سر پر سوا نہیں ہوا ہوتا۔

وہاں مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت ہورہی ہے، بی جے پی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی یو پی میں ذبح خانے بند کئے گئے، اب لاؤڈسپیکروں پر اذان اور مساجد میں مورتیاں رکھنے کی غیر دانشمندانہ باتیں کی جارہی ہیں۔ یو پی میں ایسا اس لئے ہورہاہے کیونکہ مسلمان تقسیم اور نااتفاقی کے بھنور میں پھنس گئے ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کو اب بھی روکا نہیں گیا تو وہ پی ڈی پی کے ذریعے یہاں (جموں وکشمیر میں) بھی ایسے ہی حالات پیدا کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔

یوپی کے مسلمان ٹولیوں میں نہ بٹ گئے ہوتے ، تو ایک کٹر فرقہ پرست شخص وزیراعلیٰ نہ بن جاتا : فاروق عبداللہ

فاروق عبداللہ جوکہ سری نگر بڈگام پارلیمانی حلقے سے ضمنی انتخابات لڑرہے ہیں، نے کہا کہ کانگریس جو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت رہی ہے اور اگر ان سے بھی کمزوریاں اور غلطیاں سرزد نہ ہوتیں تو آج ملک کے لوگوں کو ان مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا جو مرکز میں موجود قیادت کے وجود پیدا ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ’آ ج یہ فرقہ پرست طاقتیں جو ملک کے حکمران بھی بن گئے ہیں، ہندوستان کی سیکولر عمارت کو منہدم کرنے کے درپے میں ہیں اور جو لوگ محض اقتدار کے خاطر فرقہ پرستوں کے ساتھ مل گئے ہیں وہ کیسے کشمیر کو بچا سکتے ہیں؟‘

فاروق عبداللہ نے ریاست کے مفادات ، احساسات اور مسلم کردار کے ساتھ ساتھ تینوں خطوں کی انفرادیت تشخص ، وحدت اور کشمیریت کو بچانے کے لئے اہل کشمیر کو متحد د ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے ساتھ ساتھ ریاست میں فرقہ پرستوں غلبہ ہو رہا ہے اس لئے ہمیں ایک ہو کر ایسے کشمیر دشمن عناصروں کے ناپاک عزائم اور ارادوں کو خاک میں ملانے کی کوششوں میں جٹ جانا چاہئے،جو ریاست کے خصوصی پوزیشن ( دفعہ 370) کے ساتھ ساتھ دفعہ 35 اور سٹیٹ سبجیکٹ قانون کے پیچھے پڑے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اہل کشمیرکو معلوم ہوا کہ قلم دوات(پی ڈی پی)والے موجودہ حکمران کس حد تک ناگپور کے ایجنڈا اور آر ایس کے خاکوں میں رنگ بھر رہے ہیں اور کسی طرح سے ریاست میں لوگوں کو زبان ، مذہب اور علاقائی بنیادوں پرتقسیم کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا آج جو ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں اور ان میں وہی کشمیریوں کے حقیقی نمائدے لوک سبھا میں جاکر کشمیریوں کی بات کریں گے اور ہندوستان کے سب سے بڑے جمہوری ایوان میں کشمیرکی حقیقت بیان کریں گے۔ اس موقعہ پر سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر اہل کشمیر کو اس وقت بھی ، اُس طوفان کا احساس نہ ہوا ہوگاتو یہ سب سے بڑا المیہ اور بدقسمتی ہوگی کہ بی جے پی اور پی ڈی پی مل کر ریاست اور ریاست کے لوگوں کو کس طرح تباہی اور بربادی کی طرف لے جارہے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ مخلوط سرکار نے اس قدر آر ایس اور ناگپور کے سامنے سر نڈر کیا ہے کہ انہوں نے اپنے آقاؤں کے فرمان کے تحت پلٹ گنوں پر پابندی عائد کرنے بجائے 11000 پلیٹ گن، 6لاکھ کارتوس کے علاوہ دیگر جان لیوا ہتھیار بھی منگایا گیا۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ میں دل سے چاہتا تھا کہ محبوبہ مفتی کی تعریف کروں کیونکہ صرف اور صرف تنقید کرنا اچھا نہیں لگتا لیکن میں اس بات پر حیران ہوں کہ پی ڈی پی کے اڑھائی سال کے دورِ حکومت میں کوئی بھی ایسا کام نہیں ہوا جس کے لئے اُن کی تعریف کروں۔ انہوں نے لوگوں سے ووٹ حاصل کرنے اور بھاجپا کے ساتھ اتحاد کرنے کے وقت وعدے کئے تھے کہ وہ بجلی گھروں کی واپسی عمل میں لائیں گے، افسپا کا خاتمہ کروائیں گے، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی اور حریت لیڈروں بات چیت میں شامل کرنا وغیرہ شامل تھا، اور اس بارے میں کم از کم مشترکہ پروگرام کا خوب ڈھنڈورا پیٹا لیکن سب کچھ سراب ثابت ہوا۔

عمر عبداللہ نے کہا ’ ظالم حکمرانوں نے یہاں کی مساجد ، خانقاہوں اور زیارتگاہوں پر تالے چڑھائے، سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں مسلسل 4ماہ تک کوئی بھی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی‘۔انہوں نے کہا کہ آج بھی گرفتاریاں جاری ہیں، نوجوانوں پر پی ایس اے لگانا جاری لیکن تعمیراتی کاموں کا نام ونشان ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی سرکار کا یہ دعویٰ تھا کہ یہاں کے نوجوان پانچ سو روپیہ نوٹ کے بدلے سنگ بازی کر رہے ہیں اس لئے مودی جی نے نوٹوں کی پابندی عائد کی تاکہ سنگ بازی اور ملٹنسی کا خاتمہ ہو لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ یہاں کے نوجوان پیسوں کے لئے نہیں ایسا نہیں کرتے بلکہ انصاف چاہتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز