اسرائیل کی شرعی عدالت میں پہلی مرتبہ مسلم عرب خاتون جج مقرر

وہ گزشتہ 17 سال سے اسرائیل میں وکالت کر رہی ہیں اور وہ شمالی الخلیل کے قصبے طمرہ میں خانگی امور سے متعلق اسلامی قوانین کی ماہر سمجھی جاتی ہیں

Apr 26, 2017 07:27 PM IST | Updated on: Apr 26, 2017 07:27 PM IST

تل ابیب : اسرائیل کی شرعی عدالت میں پہلی مرتبہ ایک مسلم عرب خاتون ھنا خطیب کو جج مقرر کردیا گیا ہے۔ھنا خطیب ایک پیشہ ور خاتون وکیل ہیں ا ور انہوں نے ایل ایل بھی کررکھا ہے۔ وہ گزشتہ 17 سال سے اسرائیل میں وکالت کر رہی ہیں اور وہ شمالی الخلیل کے قصبے طمرہ میں خانگی امور سے متعلق اسلامی قوانین کی ماہر سمجھی جاتی ہیں۔

یہ تقرری ججوں کی ایک کمیٹی کی جانب سے سفارشات کی روشنی میں کی گئی ہے جبکہ اسرائیلی وزیر انصاف ایلیت شاکید کے مطابق ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک مسلمان عرب خاتون کو جج مقرر کیا گیا ہے جو اسرائیل میں مقیم مسلمانوں کے اسلامی شرعی مقدمات کے فیصلے کریں گی۔

اسرائیل کی شرعی عدالت میں پہلی مرتبہ مسلم عرب خاتون جج مقرر

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی خبر کے مطابق اسرائیلی خاتون وزیر قانون کا کہنا ہے کہ ہم نے ملک میں پہلی بار ایک مسلمان خاتون جج کو اسلام کے شرعی امور سے متعلق کیسز نمٹانے کے لیے مقرر کیا ہے۔ اسرائیل کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے۔

اسرائیل میں 9 اسلامی شرعی عدالتیں موجود ہیں جن میں ججوں کی تعداد 18 ہے تاہم دوسرے مذاہب کی کوئی خاتون جج تعینات نہیں۔ حتیٰ کہ عیسائی، یہودی اور درز مذاہب کی کوئی خاتون جج تعینات نہیں۔ اپنی تعیناتی کے 14 دن بعد جسٹس ھناء خطیب اسرائیلی صدر رؤوف ریفلین کی موجودگی میں حلف اٹھائیں گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز