چین کے سنکیانگ میں چاقو سے لیس حملہ آوروں نے پانچ افراد کو ہلاک کیا

شنگھائی۔ چین کے مغربی بعید کے مسلم آبادی والے سنکیانگ میں تین چاقو بردار حملہ آوروں نے 5 افراد کو ہلاک اور 5 کو زخمی کردیا اس کے بعد پولیس نے ان ’’ ٹھگوں‘‘ کو مار ڈالا۔

Feb 15, 2017 03:55 PM IST | Updated on: Feb 15, 2017 03:55 PM IST

شنگھائی۔  چین کے مغربی بعید کے مسلم آبادی والے سنکیانگ میں تین چاقو بردار حملہ آوروں نے 5 افراد کو ہلاک اور 5 کو زخمی کردیا اس کے بعد پولیس نے ان ’’ ٹھگوں‘‘ کو مار ڈالا۔ وسط ایشیا سے متصل چینی سرحد پر تشدد کا یہ تازہ واقعہ ہے۔ سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ شورش زدہ سنکیانگ کے پشان علاقہ میں یہ حملہ کل شام ہوا تھا۔ ’’فی الحال اس مقام پر سماجی نظم ٹھیک ہے سماج مستحکم ہیں اور تفتیش کی جارہی ہے‘‘۔ حملہ آوروں اور ان کے مقصد کے بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔ وسط ایشیا ، پاکستان ، افغانستان اور ہندوستان کی سرحدوں سے متصل وسائل سے مالا مال سنکیانگ میں حالیہ برسوں میں سیکڑوں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں ۔

ٰیہاں مسلم ایغور اقلیت اور اکثریتی ہان چینیوں کے درمیان اکثر تشدد ہوتا رہتا ہے۔ حکومت یہاں کی شورش کے لئے علیحدگی پسند مسلم جنگجووں کو موردالزام ٹہراتی ہے مگر انسانی حقوق کے گروپ اور جلا وطن کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین نے مسلم ایغور آبادی کے مذہب اور ثقافت پر طرح طرح کی پابندیاں لگارکھی ہیں اس لئے وہاں کے لوگوں میں تمغہ اور ناراضگی ہے۔ وہاں داڑھی پر برقعہ پر روزہ نماز پر کئی طرح کی پابندیاں ہیں مگر چین اس سے انکار کرتا ہے۔ پشان میں جیسے ایغور زبان میں گوماکہتے ہیں حالیہ برسوں میں تشدد کے کئی واقعات ہوچکے ہیں۔ 2011 میں پولیس نے سات افراد کو ہلاک کردیا تھا اور کہاتھا کہ یہ اغوا کار تھے اور ان کا دہشت گرد گروپ سے تعلق تھا۔

چین کے سنکیانگ میں چاقو سے لیس حملہ آوروں نے پانچ افراد کو ہلاک کیا

تصویر: بی بی سی

جلا وطن گروپ عالمی ایغور کانگریس کے ترجمان دلشاد راشد نے کہا کہ چین کے ظلم کا یہ تازہ واقعہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ وہاں لوگوں کے پرامن طریقہ سے ناراضگی ظاہر کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اگر کوئی اشتعال انگیز واقعہ ہوتا ہے تو اس کے نتیجہ میں ٹکراؤ ہوسکتا ہے۔ تھوڑے عرصہ سکون اور حالیہ ہفتوں میں سنکیانگ میں تشدد پھر بڑھ رہا ہے۔ دسمبر میں حملہ آور ایک گاڑی لے کر سرکاری عمارت میں گھس گئے تھے جس کے نتیجہ میں 5 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پچھلے ماہ پولیس نے تین افراد کو گولی مارکر ہلاک کردیا تھا حکام نے انہیں مشکوک دہشت گرد بتایا تھا۔ شاہراہ ریشم کی ایک چوکی ہوتان کو ایغور کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ یہ چین کے بقول دہشت گردی کے خلاف لڑائی کا محاذ ہے۔

قبل ازٰیں اس ماہ حکومت نے کہا تھا کہ سات افراد کے خلاف رشوت ستانی کے شبہ میں تفتیش چل رہی ہے۔ ان میں سے چھ ہوتان اور قریبی کراکاش علاقہ میں ’’سینی‘‘ یا سرکاری سیکورٹی افسران ہیں ۔ یہ سب ایغور ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز