مصر میں 3 ماہ کیلئے ایمرجنسی نافذ

Apr 10, 2017 03:39 PM IST | Updated on: Apr 10, 2017 03:39 PM IST

قاہرہ۔  مصر میں ایسٹر سے پہلے کے اتوار کو قبطی عیسائیوں کو نشانہ بنا کر کئے گئے حملوں کے بعد صدر عبدالفتح السیسی نے ملک میں تین ماہ کیلئے ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر السیسی نے ملک بھر میں فوج کی تعیناتی کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے قومی ٹیلی ویژن پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’تین مہینوں کی ایمرجنسی کے دوران تمام ضروری قدم اٹھائے جائیں گے۔ حملے کے بعد حکومت نے ملک میں تین روزہ قومی سوگ کا بھی اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ اتوار ہوئے ان دھماکوں میں 45 لوگ مارے گئے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق قبطی چرچ کے سربراہ پوپ ٹاواڈروس ٹو بھی یہاں کی مذہبی تقریب میں شریک ہوئے تھے تاہم وہ محفوظ ہیں۔ پوپ فرانسس اس ماہ کے بعد مصر جانے والے ہیں۔ انہوں نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔

ایمرجنسی کے نفاذ سے حکام کو یہ اختیار مل جائے گا کہ وہ بغیر وارنٹ کے کسی کے گھر کی تلاشی بھی لے سکیں گے۔ اس حکمنامے کے نفاذ کے لیے پارلیمان سے منظوری لیا جانا ضروری ہے۔ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کا کہنا ہے کہ طنطا اور سکندریہ میں ہونے والے دھماکے اس نے کیے ہیں۔ اس گروہ نے مصر میں حالیہ حملوں کے بعد مزید حملے کرنے کی دھمکی دی تھی۔ صدر السیسی نے قومی دفاعی کونسل کے اجلاس کے بعد سخت تقریر کی۔ انھوں نے خبردار کیا کہ جہادیوں کے خلاف ’طویل اور دردناک جنگ‘ ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ تمام قانونی اور آئینی اقدامات کرنے کے بعد کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ پارلیمنٹ میں اکثریت صدر کی حامی ہے۔ حالیہ برسوں میں قبطی مسیحیوں پر حملے بڑھ گئے ہیں جب سے 2013 میں فوج نے منتخب صدر محمد مرسی کا تختہ الٹ دیا اور اسلام پسندوں کے خلاف کاروائیاں شروع کر دی تھیں۔

مصر میں 3 ماہ کیلئے ایمرجنسی نافذ

مصری صدر عبدالفتح السیسی: تصویر رائٹرز

خیال رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں قاہرہ میں ایک چرچ میں ہونے والے دھماکے میں 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ فروری میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے قبطی مسیحی برادری، جو کہ مصر کی دس فیصد آبادی پر مشتمل ہے، کو خبردار کیا تھا کہ انھیں مزید حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ حالیہ حملہ مسیحی کلینڈر کے ایک مقدس دن کیا گیا ہے۔ جب یسوع مسیح فتح کے ساتھ یروشلم میں داخل ہوئے تھے۔ دولتِ اسلامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے دو خودکش بمباروں نے یہ حملے کیے ہیں۔ ایک نے سینٹ جارج قبطی گرجا گھر کو طنطا کے شمال میں نشانہ بنایا۔ محکمہ صحت کے مطابق وہاں 27 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد سینٹ مارک نامی قبطی گرجا گھر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب پولیس نے خودکش حملہ آور کو اس میں داخل ہونے سے روکا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے چرچ کے باہر خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا جس کے نتیجے میں پولیس افسران سمیت 17 افراد ہلاک ہوگئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز