لو اسٹوری: اندرا گاندھی جیسی ہے جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی پریم کہانی

محبوبہ مفتی کی زندگی پر کچھ عکس فیروز گاندھی کاہےتوکچھ عکس اندرا گاندھی کا پڑ گیا۔ ان دونوں کی طرح ہی کچھ ہےان کی پریم کہانی۔ تعلقات خراب ہونے سے لے کر ان کی زندگی تک ایک جیسی ہے کہانی۔

Jun 24, 2018 05:11 PM IST | Updated on: Jun 24, 2018 05:11 PM IST

محبوبہ مفتی کی زند گی پر کچھ عکس فیروز گاندھی کاہے تو کچھ  عکس اندرا گاندھی کا پڑ گیا۔ ان دونوں کی طرح ہی کچھ  ہے ان کی پریم کہانی۔  تعلقات خراب ہونے سے لے کر ان کی زندگی تک۔  آئیے نیوز 18 اردو پر دیکھیں پوری کہانی۔ 

محبوبہ مفتی کی پریم کہانی، شادی، خاندان اورسیاست کے ساتھ  مل کر وہ اس طرح آگے بڑھیں کہ  انہوں نے آگے کی زندگی کے راستوں میں خود کو شوہر سے الگ پایا۔ پیاربکھر کر نفرت میں تبدیل ہوگئی، جس کی وجہ سے طلاق کی نوبت آگئی، لیکن محبوبہ خود کو سمیٹتی ہوئی آگے بڑھ کر مقام بناتے ہوئے منزلیں طے کرتی رہیں۔

لو اسٹوری: اندرا گاندھی جیسی ہے جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی پریم کہانی

محبوبہ مفتی: فائل فوٹو

محبوبہ اپنی ریاست میں سب سے طاقتوربنیں اوراس کرسی تک پہنچی، جس پر وادی میں پہلی بار کوئی خاتون پہنچی تھی۔ سیاست کے راستے بھی ان کے لئے چیلنج سے پُر تھے۔ حالانکہ اتحاد کے دھاگے ٹوٹ گئے اوراب پھرسے سب کچھ آزمائش والا تھا۔

تب پہلی بار سرخیوں میں آئیں

محبوبہ مفتی سال 1989 میں تب پہلی بار سرخیوں میں آئی تھیں، جب ان کی چھوٹی بہن روبیہ سعید کا اغوا کرلیا گیا۔ روبیہ اس وقت سری نگر کے اسپتال میں میڈیکل انٹرن تھیں۔ والد مفتی محمد سعید کو وی پی سنگھ حکومت میں وزیر داخلہ بنے مشکل سے پانچ دن ہوئے تھے۔ تب محبوبہ ہی میڈیا سے مسلسل روبرو ہورہی تھیں۔ تب تک ان کی شادی ہوچکی تھی، لیکن وہ لو پروفائل رہنا پسند کرتی تھیں۔

محبوبہ مفتی: فائل فوٹو

والد کے کزن (چچازاد) سے ہوئی شادی

محبوبہ کی شادی 1984 میں رشتے میں چچا جاوید اقبال شاہ سے ہوئی تھی۔ حالانکہ وہ اپنی بیگم سے 7 سال چھوٹے تھے۔ رشتے میں مرحوم مفتی محمد سعید، اقبال شاہ کے پہلے چچا زاد تھے۔ محبوبہ اس وقت سری نگریونیورسٹی میں ایل ایل بی پورا کرنے والی تھیں۔ وہیں شاہ نئے نئے یونیورسٹی میں پہنچے تھے۔ دونوں میں پیار ہوگیا۔ شاہ نے دو سال پہلے کولکاتا کے انگریزی روزنامہ "دی ٹیلی گراف" سے بات چیت میں بتایا تھا "پیار کی یہ پہل محبوبہ کی ہی طرف سے ہوئی۔ انہوں نے مجھے پرپوز کیا"۔ حالانکہ  آئیپ وائس بلاگ اسپاٹ ڈاٹ کام میں بتایا گیا کہ محبوبہ اس شادی کے لئے بہت زیادہ خواہاں نہیں تھیں۔

1

نکاح زور شور سے ہوا

اس کے بعد جب مفتی صاحب کو اس کے بارے میں معلوم ہوا توشادی میں زیادہ پریشانی نہیں ہوئی۔ دونوں خاندان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ دونوں خاندان کو لگا کہ دونوں کی نکاح کا خیال اچھا ہی رہے گا۔ نکاح زوروشور سے ہوا۔ ہر کوئی خوش تھا۔ شادی کے بعد دونوں دہلی آکر رہنے لگے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دوران میاں بیوی کے درمیان خوب اختلاف ہوتا تھا اور ان کے درمیان دوریاں بڑھنے لگیں۔

2

رشتوں میں آنے لگی دوریاں

ایک طرف دونوں کے رشتے میں دوریاں بڑھ رہی تھیں تو دوسری طرف مفتی محمد سعید اپنی بڑی بیٹی کو اپنے سیاسی وارث کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ کیونکہ مفتی کے بیٹے کو سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ مفتی نے محبوبہ کو تیار کرنا شروع کیا۔ وہیں اقبال کو قطعی پسند نہیں تھا کہ ان کی بیوی سیاست میں قدم رکھیں۔ اس بات نے  آگ میں گھی کا کام کیا، جس طرح محبوبہ سیاست میں آگے بڑھیں، ازدواجی رشتہ ٹوٹتا چلا گیا۔ آخر کار وہ شوہر کا گھر چھوڑ کر والد کے پاس آگئیں۔ پھر اس رشتے میں جو کچھ باقی بچا تھا، وہ عدالت تک پہنچ کر ختم ہوگیا۔

محبوبہ کی بیٹیاں

اس شادی سے دونوں کو دو بیٹیاں ہوئیں۔ ارتقا اور التجا۔ اب دونوں بڑی ہوچکی ہیں۔ والد کے ساتھ دونوں بیٹیوں کے رشتے میں بھی سردمہری ہی ہے۔ بڑی بیٹی ارتقا لندن واقع ہندوستانی ہائی کمیشن میں کام کرتی ہیں تو دوسری بالی ووڈ فلم صنعت سے منسلک ہیں۔ محبوبہ کے بھائی مفتی تصدیق بالی ووڈ میں جانے مانے سنیمیٹو گرافرہیں۔ ڈائریکٹروشال بھاردواج کی فلم اونکارا میں ان کے کام کی زبردست تعریف بھی ہوئی تھی۔

3

 

بیٹیوں کو ماں پر فخر ہے

جب محبوبہ وزیراعلیٰ بنیں توان کی بیٹیوں نے جم کراپنی ماں کی تعریف کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ انہیں اپنی ماں پرفخرہے کہ انہوں نے اکیلے ہی ان دونوں کی پرورش باپ کی طرح  کی۔ انہوں نے اپنی ماں کوخواتین کا رول ماڈل بھی بتایا۔ بیٹی ارتقا نے کہا تھا کہ ان  کی ماں کبھی دباو میں نہیں آتیں۔

اقبال شاہ نے کیا کہا

اقبال شاہ نے محبوبہ مفتی کے ساتھ رشتوں کو لے کر "دی ٹیلی گراف" کو دیئے انٹرویو میں کہا تھا، میں تب بہت کم عمر تھا، اس وقت ہورہی بہت سی باتوں کو میں سمجھ بھی نہیں پایا، لیکن یہ طے تھا کہ سیاست نے اختلاف کی شروعات کردی تھی۔ میں اس سب سے مطمئن محسوس نہیں کررہا تھا۔ شاہ آج بھی مفتی خاندان کے سخت ناقد رہے ہیں اور انہیں وادی میں خراب حالت، دہشت گردی اورعدم استحکام کے لئے قصور وار ٹھہراتے ہیں۔

عدالت میں طلاق

شاہ نے ٹیلی گراف سے کہا "مفتی خاندان کے طور طریقے عجیب وغریب ہیں۔ میرے لئے یہ سب کچھ بہت مایوس کرنے والا تھا۔ اسی کے سبب ان کا محبوبہ سے طلاق ہوگیا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک طویل کہانی ہے، لیکن دونوں کا الگ ہونا بے حد مایوس کن طریقے سے ہوا۔ بعد میں یہ معاملہ عدالت میں پہنچا اور طلاق کے طورپرختم ہوا۔ شاہ کووادی میں انیمل ایکٹیوسٹ (جانوروں کے کارکن) کے طور پر جانا جاتا ہے۔

اقبال سابقہ بیوی کی مخالف پارٹی میں بھی گئے

جموں وکشمیر کے گزشتہ اسمبلی انتخابات سے قبل سال 2008 میں اقبال شاہ نے محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی کے خلاف نیشنل کانفرنس کی رکنیت حاصل کرلی۔ انہوں نے الیکشن بھی لڑا، لیکن شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ تاہم اس کے جلد بعد ہی وہ نیشنل کانفرنس سے بھی الگ ہوگئے۔ وہیں محبوبہ مفتی اپنے والد کے انتقال کے بعد پی ڈی پی کی سربراہ ہیں اورمفتی خاندان کی سیاسی وارث۔

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز