اکبر بگٹی قتل کیس میں سابق پاکستانی صدر پرویزمشرف کو بڑی راحت، بریت کو چیلنج کرنے والی عرضی خارج

پاکستان کے سابق صدر اور ریٹائرفوجی حکمراں پر ویز مشرف کو آج اس وقت راحت ملی جب بلوچستان ہائی کورٹ نے بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کے قتل کیس میں ان کی بریت کے خلاف دائر عرضی مسترد کر دی۔

Aug 30, 2017 06:44 PM IST | Updated on: Aug 30, 2017 06:44 PM IST

اسلام آباد: پاکستان کے سابق صدر اور ریٹائرفوجی حکمراں پر ویز مشرف کو آج اس وقت راحت ملی جب بلوچستان ہائی کورٹ نے بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کے قتل کیس میں ان کی بریت کے خلاف دائر عرضی مسترد کر دی۔ اکبر بگٹی کے بیٹے جمیل اکبر بگٹی کے وکیل سہیل راجپوت نے بلوچستان ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کے ساتھ انصاف نہیں ہوا اور فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

جمیل بگٹی نے بلوچستان ہائی کورٹ میں کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں سابق فوجی آمر پرویز مشرف، سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ، سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور سابق صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی کو نواب اکبر بگٹی قتل کیس سے بری کردیاگیا تھا۔ یہ فیصلہ گذشتہ سال 18 جنوری کو سامنے آیا تھا۔یہ اطلاع ڈان کی ایک رپورٹ میں دی گئی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نذیر احمد لانگو پر مشتمل بلوچستان ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے آج انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم سناتے ہوئے جمیل اکبر بگٹی کی درخواست خارج کردی۔

اکبر بگٹی قتل کیس میں سابق پاکستانی صدر پرویزمشرف کو بڑی راحت، بریت کو چیلنج کرنے والی عرضی خارج

پاکستان کے سابق صدر اور ریٹائرفوجی حکمراں پر ویز مشرف ، فائل فوٹو

واضح رہے کہ بلوچستان کے اہم رہنما نواب اکبر خان بگٹی 26 اگست 2006 کو کوہلو میں اس وقت کے صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف کے حکم پر کیے جانے والے ایک کریک ڈاؤن میں اُس وقت ہلاک ہوگئے تھے، جب وہ ایک غار میں چھپے ہوئے ہوئے تھے۔ بگٹی نے مسلح مہم کے ذریعے صوبائی حکومت سے بلوچستان کے قدرتی وسائل سے بڑا حصہ اور مزید خود مختاری کا تقاضہ کیا تھا، ان کی موت سے صوبے بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور آج تک بلوچستان کے حالات معمول پر نہیں آسکے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز