دارجلنگ میں تشدد کے تازہ واقعات ، پولس کی گاڑیاں نذر آتش ، سی آر پی ایف جوانوں پر پتھراؤ ، کئی زخمی

Jun 30, 2017 12:43 PM IST | Updated on: Jun 30, 2017 12:43 PM IST

دارجلنگ/ سلی گوڑی: گورکھا جن مکتی مورچہ (جی جے ایم) کی طرف سے تشدد کے تازہ واقعات میں احتجاجیوں نے آج رانگلی پولس چوکی میں توڑ پھوڑ کی اور تیستا وادی میں پولس کی دوگاڑیوں کو آگ لگا دی، جن میں سی آر پی ایف کے چار جوانوں اور دو کانسٹیبل شدید طورپر زخمی ہوگئے۔ گورکھا احتجاجیوں نے گوریلا انداز میں حملے کئے سی آر پی ایف کے جوانوں پر پتھراؤ کیا اور زخمی کانسٹیبلوں سے پستول اور ایس ایل آر بھی چھین لئے۔ زخمی کانسٹیبلوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

احتجاجیوں نے میریک کے ای ڈی عمارت کو بھی نذر آتش کردیا اور گزشتہ شب ٹی ایم سی کے رکن اسمبلی ایم کے زیمبا کے گھر پر بھی حملہ کیا۔ دریں اثناء، ایک گورکھا موومنٹ کوآرڈنیشن کمیٹی تشکیل دی گئي ہے، جس میں 13 سیاسی و غیر سیاسی پارٹیوں کے نمائندے شامل ہیں۔ کوآرڈنیشن کمیٹی کی میٹنگ آج صبح ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہی ، جس میں آگے کی حکمت عملی تیار کرنے پر بات کی گئي۔ میٹنگ میں کوئی روکاوٹ نہ ہو ، اس لئے یہ میٹنگ دارجلنگ کے بجائے کلیمپونگ میں منعقد کی گئی تھی۔

دارجلنگ میں تشدد کے تازہ واقعات ، پولس کی گاڑیاں نذر آتش ، سی آر پی ایف جوانوں پر پتھراؤ ، کئی زخمی

گورکھا جن مکتی مورچہ کے لیڈر بینے تمانگ نے پی ارجن، نیرج زیمبا، منشی تمانگ اور ڈوا پکھرین کے ہمراہ آج اس سلسلے میں میڈیا کو تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر معینہ ہڑتال کا فیصلہ نہيں بدلا ہے اور یہ ہڑتال فی الحال جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ 13 فریقوں کے نمائندوں نے اس پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک 30 رکنی گورکھا موومنٹ کوآرڈنیشن کمیٹی آج تشکیل دے دی گئي ہے ، جس میں ہر فریق کے کم سے کم دو مندوب شامل کئے گئے ہيں۔ کلیان دیوان کو اس کمیٹی کا کنوینر بنایا گيا ہے۔اس کمیٹی کی پہلی میٹنگ 6 جولائی کو منعقد ہوگی ، جس میں گورکھا تحریک کا ایکشن پلان کا فیصلہ کیا جائے گا اور یہ کمیٹی گورکھا لینڈ موومنٹ کو باضابطہ قومی سطح پر اٹھائے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز