Live Results Assembly Elections 2018

جانیں، کتنا خطرناک ہے افغانستان پر گرا دنیا کا سب سے بڑا بم جی بی یو-43

امریکہ نے جو بم جی بی یو -43 افغانستان پر گرایا ہے، وہ اتنا خطرناک ہے کہ اس کے سوا تین کلو میٹر کے دائرے میں سب کچھ خاک ہو جائے گا۔

Apr 14, 2017 08:26 AM IST | Updated on: Apr 14, 2017 08:31 AM IST

واشنگٹن۔ امریکہ نے افغانستان پر اب تک کا سب سے بڑا بم گرا کر پوری دنیا کو چونکا دیا ہے۔ امریکہ نے جو بم جی بی یو -43 افغانستان پر گرایا ہے، وہ اتنا خطرناک ہے کہ اس کے سوا تین کلو میٹر کے دائرے میں سب کچھ خاک ہو جائے گا۔

امریکہ کی وزارت دفاع نے سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے مشرقی افغانستان میں موجود اسلامک اسٹیٹ کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سب سے بڑا اور خطرناک جی بی یو -43 بم گرایا ہے۔ اس بم کو سب سے زیادہ طاقتور بم بتایا جاتا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان نے بتایا کہ پہلی بار اس بم کا استعمال کیا گیا ہے اور اسے ایم سی -130 ہوائی جہاز سے گرایا گیا۔

جانیں، کتنا خطرناک ہے افغانستان پر گرا دنیا کا سب سے بڑا بم جی بی یو-43

Loading...

اکیس ہزار چھ سو پونڈ وزنی (تقریباً 10 ہزار کلو) اس بم کا نام  جی بی یو -43 ہے۔ اسے مدر آف آل بم بھی کہا جاتا ہے۔ اس طرح کا بم پوری دنیا میں صرف 15 ہے۔ سوا تین کلو میٹر کے دائرے میں یہ سب کچھ خاک کر دیتا ہے۔ یہ بم جی پی ایس سے آپریٹ کرتا ہے۔ ایسے میں اس کے نشانہ چوكنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔ جی بی یو -43 بم سے 11 ٹن ٹی این ٹی کے برابر دھماکہ ہوتا ہے۔ اس بم کو بنانے میں تقریبا دو ہزار کروڑ روپے کا خرچ آتا ہے۔

اس بم کو نانگرهار صوبے کے اچن ضلع میں ایک سرنگ نما عمارت پر گرایا گیا ہے۔ افغانستان میں امریکی سیکورٹی فورسز نے ایک بیان میں یہ معلومات دی۔ یہ حملہ وہاں کے وقت کے مطابق شام 7:32 بجے ہوا۔

اس بم کا وزن 9797 ملی گرام ہے جس میں جی پی ایس کنٹرول ہے اور اسے اس قدر وزنی ہونے کی وجہ سے "تمام بموں کی ماں" کہا گیا ہے۔ اس کا ٹیسٹ عراقی جنگ شروع هونے سے پہلے مارچ 2003 میں کیا گیا تھا۔ افغانستان میں امریکی فوج اور بین الاقوامی افواج کے سربراہ جنرل جان نكلسن نے بتایا کہ یہ بم داعش کے دہشت گردوں کے چھپنے کے گپھاؤں اور بنکروں کو نشانہ بنا کر گرایا گیا جس سے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کو انجام تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔

 

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز