بوریت دور کرنے کیلئے نرس نے 106 افراد کو اتاردیا موت کے گھاٹ !۔

برلن میں ایک نرس کو 106 مریضوں کی موت کا ذمہ دار بتایا جارہا ہے۔ الزامات کے مطابق بوریت کی وجہ سے اس نے مریضوں کو خطرناک ادویات دیدیں، جس کی وجہ سے ان کی موت ہوگئی ۔

Nov 10, 2017 03:21 PM IST | Updated on: Nov 10, 2017 03:21 PM IST

برلن : برلن میں ایک نرس کو 106 مریضوں کی موت کا ذمہ دار بتایا جارہا ہے۔ الزامات کے مطابق بوریت کی وجہ سے اس نے مریضوں کو خطرناک ادویات دیدیں، جس کی وجہ سے ان کی موت ہوگئی ۔ معاملہ کی جانچ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مہلوکین کی تعداد میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔

یاد رہے کہ 41 سالہ نیلس ہوئیگل کو 2015 میں دو افراد کے قتل ، چار افراد کے قتل کی کوش اور سنگین صورتحال میں داخل مریضوں کو نقصان پہنچانے کا قصوروار قرار دیا گیا تھ ۔ اس دوران وہ بریمین کے شمالی شہر میں ڈیل مین ہارسٹ اسپتال میں کام کررہاتھا ۔ اس کے بعد جانچ میں پتہ چلا ہے کہ ہوئیگل نے 90 سے زیادہ مریضوں کا قتل کیا تھا۔

بوریت دور کرنے کیلئے نرس نے 106 افراد کو اتاردیا موت کے گھاٹ !۔

پولیس اور پراسیکیوٹر نے مزید 16 اموات کی تصدیق کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اسے نرس نے 1999 سے 2005 کے درمیان دیگر اسپتالوں میں کام کرنے کے دوران انجام دیا تھا ۔ بتایا جارہا ہے کہ ٹاکسی کالجی ریسرچ میں پانچ دیگر کیسوں کو بھی دیکھا جارہا ہے ۔ پراسیکیوٹرس کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہوئیگل کے خلاف مزید چارجز لگائے جاسکتے ہیں۔

تفتیش کے دوران ہوئیگل نے اعتراف کیا ہے کہ وہ مریضوں کو خطرناک ادویات دیتا تھا ، جس کی وجہ سے انہیں یا تو دل کا دورہ پڑتاتھا یا پھر جسم کے دیگر اعضا کام کرنا بند کردیتے تھے ، اس کے بعد وہ انہیں بچانے کی کوشش کرتا تھا۔ قبل ازیں اس نے بتایا تھا کہ وہ جب بور ہوجاتا تھا تو اس سے باہر نکلنے کیلئے وہ ایسا کرتا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز