زیادہ ترجرمن سیاسی جماعتیں مسلمانوں کے خلاف معتصبانہ رویے کے خلاف

Sep 13, 2017 10:40 PM IST | Updated on: Sep 13, 2017 10:40 PM IST

برلن : جرمنی میں اسی ماہ ہونے والے عام انتخابات سے قبل اسلام اور ملک میں آباد مسلمانوں کے حوالے سےایک سروے میں جب سیاسی پارٹیوں سے رائے مانگی گئی تو زیادہ تر سیاسی جماعتوں نے جہاں کھل کر کہا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف معتصبانہ رویے کے خلاف ہیں وہیں اے ایف ڈی نے کوئی رائے ظاہر نہیں کی۔ ڈی ڈبلیو کی آن لائن اشاعت کے مطابق یہ سروے جرمنی میں بسنے والے مسلمانوں کی مختلف تنظیموں، سنٹرل کونسل آف مسلمز ان جرمنی، جرمن مسلم لیگ اور ’اسلامِشے زائیٹُنگ‘ نامی اخبار نے مل کر کرایا جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ جرمنی کی مرکزی سیاسی جماعتیں بچوں کے ختنے، جانوروں کی قربانی اور مسلمانوں کے لیے اہم دیگر امور پر کیا خیالات رکھتی ہیں۔

تمام اہم سیاسی جماعتوں کو سوال نامہ بھیجا گیا تھا اور دائیں بازو کی عوامیت پسند، مہاجرین مخالف سیاسی جماعت اے ایف ڈی کے سوا سبھی سیاسی جماعتوں نے سوالات کے جوابات دئیے۔ وفاقی انتخابات سے قبل ملک کے مختلف معاملات کے بارے میں سیاسی جماعتوں نے اپنے رائے عوام کے سامنے رکھی ہے لیکن ایک ایسے وقت میں جب اسلام مخالف جذبات بڑھ رہے ہیں، جرمنی میں بسنے والے مسلمان یہ جاننا چاہتے تھے کہ کون سی سیاسی جماعت مسلمانوں کے لیے اہم معاملات پر کیا خیالات رکھتی ہے۔

زیادہ ترجرمن سیاسی جماعتیں مسلمانوں کے خلاف معتصبانہ رویے کے خلاف

فائل فوٹو

سروے کے پبلشرز ایمان مازیک، بلال الموگادیدی اور سلیمان ولمس کے حوالے سے رپورٹ میں بتا یا گیا ہے کہ زیادہ تر سیاسی جماعتوں نے کھل کر کہا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف معتصبانہ رویے کے خلاف ہیں۔ سیاسی جماعتیں سی ڈی یو اور سی ایس یو نے ایک سوال کے جواب میں مشترکہ طور پر لکھا کہ’’مسلمان کئی برسوں سے اپنی محنت سے جرمن معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ مسلمان بطور پولیس اہلکار، ڈاکٹرز، نرسز، کھلاڑی ، فائر فائٹرز اور اس کے علاوہ بھی دیگر کئی شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں ایس پی ڈی نے لکھا،'' ایس پی ڈی مسلمان تنظیموں اور اہم مسلم شخصیات کے ساتھ مسلسل رابطہ قائم رکھتی ہے۔ گرجا گھروں، سول سوسائٹی اور مذہبی تنظیموں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔‘‘ اے ایف ڈی نے اگرچہ ای میل اور ٹیلی فون کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش پر بھی کوئی جواب نہیں دیا لیکن ڈی ڈبلیو کے مطابق اس کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کو بند کر دینا چاہیے تاکہ غیر قانونی مہاجرین اس بلاک میں داخل نہ ہو سکیں۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملکی سرحدوں کی نگرانی بھی سخت کر دی جائے۔ اس پارٹی کا اصرار ہے کہ ایسے سیاسی پناہ کے متلاشی لوگوں کو فوری طور پر ملک بدر کر دیا جائے، جن کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔ ختنوں اور جانوروں کی قربانی جیسے متنازعہ معاملات پر لگ بھگ تمام سیاسی جماعتوں نے کہا کہ وہ جرمنی میں رائج موجودہ قوانین برقرار رکھنے کی حمایت کرتی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز