جرمنی میں اپنی نوعیت کی پہلی مسجد ، ہم جنس پرست اور خواتین بھی پڑھ سکتی ہیں نماز، برقع پہن کر آنے کی بھی نہیں ہے شرط

Jun 16, 2017 11:04 PM IST | Updated on: Jun 16, 2017 11:04 PM IST

برلن : جرمنی میں سيران آتش کی ایک ایسی مسجد بنانے کا خواب پورا ہو گیا ہے ، جہاں خواتین اور مرد ، سنی اور شیعہ ، عام لوگ اور ہم جنس پرست ایک ساتھ عبادت کر سکیں گے ۔ حقوق خواتین کی معروف کارکن اور وکیل آتش نے جرمنی میں اس طرح کی عبادت گاہ کے لئے آٹھ سال تک جنگ لڑی ۔ سیریں کے مطابق وہ ایسا مقام چاہتی تھیں جہاں مسلمان اپنے مذہبی اختلافات کو بھول کر اپنے اسلامی اقدار پر توجہ دیں ۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی میں مسلمانوں کے لئے یہ اپنی نوعیت کی پہلی مسجد ہے ۔ جرمنی میں ترکی کے مہمان مزدوروں کی بیٹی 54 سالہ اےٹے اس زیر تعمیر کمرے میں داخل ہوتے ہی جذباتی ہو گئیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ خواب سچ ہونے جیسا ہے ۔

ابن رشد گويتھے نام کی یہ مسجد آج 16 جون  سے کھل گئی ہے ۔  یہاں پر خواتین کیلئے برقع پہننے کی بھی شرط نہیں ہے ۔  وہ اماموں کی طرح خطبہ یا تقریر کرسکیں گی اور اذان دے سکیں گی ۔ خاص بات یہ ہے کہ اس مسجد کو سینٹ جوہانس پروٹسٹنٹ چرچ کے اندر تعمیر کیا گیا ہے ۔

جرمنی میں اپنی نوعیت کی پہلی مسجد ، ہم جنس پرست اور خواتین بھی پڑھ سکتی ہیں نماز، برقع پہن کر آنے کی بھی نہیں ہے شرط

سيران آتش نے بتایا کہ یہ ایک ایسی مسجد ہوگی جہاں کسی کو بھی برقع میں داخلہ نہیں ملے گا ۔ ان کے مطابق ایسا سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے کیا گیا ہے ۔ سيران آتش نے کہا کہ یہ ان جیسے سوچ رکھنے والے لوگوں کی رائے ہے کہ چہرے کو مکمل طور پر ڈھک دینے والے برقع کا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ، بجائے اس کے برقع یا نقاب سے ڈھکا ہوا چہرہ ایک سیاسی تصور ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز