گھانا حکومت نے اذان کے لئے واٹس ایپ میں ڈھونڈا لاوڈ اسپیکر کا متبادل

Apr 16, 2018 02:51 PM IST | Updated on: Apr 16, 2018 02:51 PM IST

ہندوستان میں لاوڈ اسپیکر پر اذان دئیے جانے سے متعلق کچھ مہینوں پہلے معروف گلوکار سونو نگم کے ٹویٹ سے زبردست تنازع پیدا ہو گیا تھا۔ سونو نگم کی حمایت اور مخالفت میں سوشل میڈیا سمیت متعدد پلیٹ فارموں پر بیان بازیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ سونو نگم نے ساتھ ہی ساتھ گرودوارہ اور مندروں میں بھی لاوڈاسپیکر کے استعمال پر سوالات کھڑے کئے تھے۔ ان کے اس اعتراض کے بعد ان کی چوطرفہ تنقید شروع ہو گئی تھی۔

یہی نہیں، الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنئو بینچ نے بھی مذہبی مقامات پر بغیر اجازت لگے لاوڈ اسپیکروں کو اتارنے کا حکم دیا تھا۔ بینچ نے صوتی آلودگی کو روکنے کے لئے یہ حکم نامہ جاری کیا تھا۔ تاہم، اب افریقی ملک گھانا کے حکام نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ جلد ہی اس حوالہ سے ایک نیا قانون نافذ کرنے جا رہے ہیں۔ گھانا کی حکومت کا کہنا ہے کہ مسلمان اذان کے لئے لاوڈ اسپیکر کا استعمال کرنا بند کر دیں اور اس کی جگہ وہ واٹس ایپ کا استعمال کریں۔

گھانا حکومت نے اذان کے لئے واٹس ایپ میں ڈھونڈا لاوڈ اسپیکر کا متبادل

علامتی تصویر

حکومت کا کہنا ہے کہ لاوڈ اسپیکر پر اذان سے صوتی آلودگی ہوتی ہے جس سے شور کے مسائل مزید بڑھ رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں انسانی صحت متاثر ہوتی ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق، گھانا میں مسجدوں کی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ موبائل پر ٹیکسٹ میسیج کر کے یا پھر واٹس ایپ میسیج کر کے نمازیوں کو نماز کے لئے بلائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدام سے شور میں کمی لائی جا سکتی ہے اور صوتی آلودگی کو کسی حد تک دور کیا جا سکتا ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق، گھانا کے مسلمانوں نے اس حکومتی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں اماموں کو ماہانہ تنخواہیں ادا نہیں کی جاتیں تو وہ میسیج کرنے کے لئے پیسے کہاں سے لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لاوڈ اسپیکر کی آواز کم تو کر سکتے ہیں لیکن ٹیکسٹ میسیجزکرنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔ کیونکہ اس کے لئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہرکوئی یہاں پڑھا لکھا نہیں ہے اور ہر کسی کو سوشل میڈیا کا استعمال کرنا نہیں آتا، لہذا حکومت کی اس تجویز کو ہم مسترد کرتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز