گجرات انتخابات : وہ پانچ بڑی وجوہات ، جس کی وجہ سے حکومت مخالف لہر کا بھی فائدہ نہیں اٹھاپائی کانگریس

گجرات میں بی جے پی نے لگاتار چھٹی مرتبہ اقتدار پر قبضہ کرلیا ہے اور کانگریس کو پٹخنی دیدی ہے ۔

Dec 18, 2017 04:57 PM IST | Updated on: Dec 18, 2017 04:57 PM IST

نئی دہلی : گجرات میں بی جے پی نے لگاتار چھٹی مرتبہ اقتدار پر قبضہ کرلیا ہے اور کانگریس کو پٹخنی دیدی ہے ۔ تاہم کانگریس کی بھی بڑی شرمناک شکست تو نہیں کہہ سکتے ، مگر جو جیتا وہی سکندر ۔ یوں تو اس مرتبہ کانگریس کیلئے اچھا موقع تھا کہ وہ ریاست میں 22 سالوں کے بنواس کو ختم کرسکے ، مگر وہ اس میں پوری طرح ناکام رہی ۔

ریاست میں بی جے پی کی جیت کی کیا وجہ رہی اور کانگریس اپنی تمام تر کوششوں کے بعد بھی کیوں ہاری ۔ آئیے ہم بتاتے ہیں آپ کو اس کی پانچ اہم وجوہات ؟۔

گجرات انتخابات : وہ پانچ بڑی وجوہات ، جس کی وجہ سے حکومت مخالف لہر کا بھی فائدہ نہیں اٹھاپائی کانگریس

مودی میجک کو توڑنے میں پھر ناکام کانگریس

لوک سبھا انتخابات 2014 سے ملک میں جاری مودی لہرکا 2017میں بھی کانگریس توڑ نکالنے میں ناکام رہی ۔ گزشتہ تین سالوں سے ریاست در ریاست انتخابات میں شکست کا سامنا کررہی کانگریس کیلئے گجرات انتخابات ایک اچھا موقع تھا ، مگر وہ اس کا بھی فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ۔ گجرات انتخابات میں جہاں ایک طرف لگاتار 22سال سے اقتدار کی وجہ سے بی جے پی کے خلاف اینٹی کنبنسی کا ماحول تھا ، تو وہیں تین نوجوانوں نے بھی بی جے پی کیلئے راہیں مشکل کردی تھیں ، اس کے باوجود بھی کانگریس لوگوں کے درمیان سے مودی میجک کو ختم کرنے ناکام ثابت ہوئی ۔

بی جے پی کی حکمت عملی کے سامنے کانگریس ڈھیر

بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی کا سامنا کرنے میں کانگریس ایک مرتبہ پھر ناکام ثابت ہوئی ۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد سے ہی بی جے پی کی حکمت عملی میں کافی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں ۔ لوک سبھا انتخابات کے بعد سے ہی بی جے پی اپنے صدر امت شاہ کی قیادت میں ایک کے بعد ایک ریاستوں میں انتخابات میں کامیابی سے ہمکنار ہوتی رہی ہے ، مگر کانگریس اب تک اس کا کوئی توڑ نکالنے میں کامیاب نہیں ہوپائی ہے۔ گجرات میں اس مرتبہ موقع ہونے کے باوجود کانگریس بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی کا سامنا نہیں کر پائی ، جس سے ایک مرتبہ پھر یہ بات پوری طرح سے واضح ہوگئی کہ کانگریس کو اگر بی جے پی سے مقابلہ کرنا ہے اور انتخابات میں مات دینی ہے تو اس کو بھی بی جے پی کی طرح ہی سوچنا پڑے گا اور اس سے مقابلہ کیلئے زمینی سطح پر کام کے ساتھ ساتھ اچھی سیاسی حکمت عملی بھی اپنانی پڑے گی ۔

وزیر اعظم مودی کو لے کر منی شنکر ائیر کا متنازع بیان

گجرات اسمبلی انتخابات میں جب انتخابی سرگرمیاں اپنے شباب پر تھیں تو منی شنکر ائیر کے ایک بیان نے کانگریس کو بیک فٹ پر لا کھڑ کردیا اور ریاست میں کانگریس کی شکست میں اہم رول ادا کیا ۔ منی شنکر ائیر کے نیچ آدمی والے بیان کو وزیر اعظم مودی ، صدر امت شاہ اور بی جے پی نے بخوبی بھنایا اور اس کو گجرات کی بے عزتی قرار دے کر لوگوں کو اپنی حق میں کر لیا ۔ ائیر کا بیان ایسے وقت می آیا تھا جب دونوں پارٹیاں آخری مرحلہ کی ووٹنگ سے پہلے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھیں ۔ وزیر اعظم مودی نے ائیر کے بیان کو گجرات میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بی جے پی مخالف لہر کانگریس مخالف لہر میں تبدیل ہوگئی ۔

مودی کے متنازع بیانوں پر بی جے پی کو سنجیدگی سے نہیں گھیرپائی کانگریس

گجرات اسمبلی انتخابات کے دوران وزیر اعظم مودی کے بیانوں میں یوں تو وہ سنجیدگی اور انوکھا پن نظر نہیں آیا ، جو دیگر انتخابات میں دیکھنے کو ملتا تھا ۔ اس مرتبہ وزیر اعظم مودی نے متعدد غیر ذمہ دارانہ بیانات دئے ، جس پر تنازع بھی ہوا ۔ مگر کانگریس اس کو سنجیدگی کے ساتھ بھنانے کی کوشش نہیں کی ، جیسا کہ عام طور پر بی جے پی کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ خواہ وہ گجرات انتخابات میں پاکستان کی انٹری ہو یا پھر منی شنکر ائیر کے پاکستانی اہلکاروں کے ساتھ میٹنگ کا معاملہ ہو ، اس سبھی معاملات میں مودی پھنستے ہوئے نظر آئے ، مگر کانگریس اس کو انتخابی ہوا میں پوری طاقت کے ساتھ اچھال نہیں پائی ۔ جبکہ بی جے پی قدم قدم پر کانگریس کو گھیرتی رہی اور وزیر اعظم و امت شاہ اس میں کاب بھی ہوتے نظر آئے۔

گجراتی عوام سے وابستگی میں کمی بھی صاف آئی نظر

وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ دونوں گجرات سے ہی تھے اور یہ ان کا ہوم گراونڈ تھا ، اس وجہ سے بھی اگر راہل گاندھی اور وزیر اعظم مودی کے نظریہ سے دیکھا جائے تو گجراتی عوام جتنے اچھی طرح سے وزیر اعظم مودی سمجھ سکتے تھے ، اتنی راہل گاندھی میں سمجھ نہیں تھی ، اس لئے راہل گاندھی کو گجراتی زبان میں بولنا زیادہ ضروری تھا تاکہ وہ خود کو گجرات کے عوام سے زیادہ اچھی طرح سے جوڑ پاتے ، جیسا کہ وزیر اعظم مودی کی تقریروں میں نظر آیا ۔ مودی نے اپنی تقریریں گجراتی زبان میں ہی کیں جس کی وجہ سے وہ عوام سے رابطہ قائم رکھ پائے ۔ مگر راہل گاندھی کے معاملہ میں ایسا نہیں ہوا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز