امریکی اعلان کے بعد حماس کا نئی انتفاضہ کا اعلان ، غرب اردن اور غزہ میں جھڑپیں شروع ، 16 فلسطینی زخمی

Dec 07, 2017 10:01 PM IST | Updated on: Dec 07, 2017 10:01 PM IST

غزہ : امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے رد عمل میں مقبوضہ غربِ اردن میں فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں 16 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق زیادہ تر فلسطینی آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں سے زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم کم از کم ایک فلسطینی فائرنگ سے زخمی ہوا ہے۔ امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور فلسطینی گروپ حماس کی جانب سے انتفادہ کی کال کے بعد اسرائیل نے غربِ اردن میں سینکڑوں مزید فوجی تعینات کر دیے ہیں۔

اس سے قبل حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے متعلق امریکی اعلان کے خلاف نئی انتفاضہ (جدو جہد آزادی) تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق غزہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ نے اسرائیل کے خلاف انتفاضہ (جدو جہد آزادی ) کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں انتفادہ کےلئے کام کرنا چاہئے، ہم حق خودارادیت کےلئے جدوجہد کرتے رہیں گے جبکہ کل یوم جمعہ کو امریکی فیصلے اور اسرائیل کے خلاف احتجاج اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔

امریکی اعلان کے بعد حماس کا نئی انتفاضہ کا اعلان ، غرب اردن اور غزہ میں جھڑپیں شروع ، 16 فلسطینی زخمی

مقبوضہ غربِ اردن میں فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں 16 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔تصویر : رائٹر

اسماعیل ہانیہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس ریاست فلسطین کا دارالحکومت ہے اور رہے گا ، انھوں نے حماس کے تمام اراکین اور عہدیداروں کو ہدایت کی ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس اور فلسطین کو لاحق خطرے سے نمٹنے کےلئے کارکن اور عہدیدار نئے تنظیمی احکامات کے لئے مکمل طور پر تیار رہیں۔

اسماعیل ہانیہ نے فلسطین کے صدر محمود عباس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ امن عمل معطل کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انتظامیہ کا بھی بائیکاٹ کردیں۔واضح رہے کہ حماس فلسطین کی آزادی کے لئے مسلح جدوجہد کررہی ہے جب کہ امریکا اور یورپی یونین نے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز