حماس کے منشور میں اسرائیل پر اپنا موقف نرم کرنے اور اخوان المسلمین سے وابستگی ختم کرنے کا اشارہ

May 01, 2017 09:07 PM IST | Updated on: May 01, 2017 09:08 PM IST

دوحہ۔  فلسطین کی مزاحمت اسلامی تنظیم حماس اپنی نئی پالیسی کے منشور میں اسرائیل کے تئیں اپنے موقف کو نرم کرتے ہوئے اس کی تباہی کے نعرے سے دستبردار ہوگی اور اخوان المسلمین سے اپنی وابستگی بھی ختم کرے گی۔ خلیجی عرب کے ذرائع کے مطابق فلسطینی قیادت کی نئی پالیسی کے منشور میں یہ اشارہ دیا گیا ہے، جس پر آج قطر کی راجدھانی دوحہ میں غور و خوض کیا جائے گا۔ حماس کی اس پہل کا مقصد خلیجی عرب ممالک اور مصر کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانا ہے ، جو اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہيں۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ حماس اس کے ساتھ ہی مغربی ممالک کے ساتھ روابط قائم کرنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کرنا چاہتی ہے، جو اسرائیلی دشمنی کی وجہ سے حماس کو دہشت گرد گروپ خیال کرتے ہيں۔

حماس قطر میں آج ایک ضمنی منشور کا بھی اعلان کررہی ہے۔ اس میں 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل کے ذریعہ قبضہ کئے گئے فلسطینی علاقوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کے قیام کی تجویز کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا جائے گا۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد حماس کی بین الاقوامی تنہائی کو کم کرنا ہے۔ تاہم، تنظیم کا 1988ء میں اعلان کردہ اصل منشور جوں کا توں رہے گا اور مغربی ممالک کے مطالبے پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی حماس سے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں جبکہ یہ مزاحمتی گروپ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی ریاست کے قیام کو سرے سے قبول ہی نہیں کرتا ہے۔

حماس کے منشور میں اسرائیل پر اپنا موقف نرم کرنے اور اخوان المسلمین سے وابستگی ختم کرنے کا اشارہ

حماس کے لیڈر خالد مشعل درمیان میں، تصویر: الجزیرہ ڈاٹ کام

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز