گیان پیٹھ اور پدم بھوشن اعزاز یافتہ ہندی کے معروف شاعر کنور نارائن کا انتقال

Nov 15, 2017 04:00 PM IST | Updated on: Nov 15, 2017 04:00 PM IST

نئی دہلی: گیان پیٹھ اور پدم بھوشن اعزاز یافتہ ہندی کے معروف شاعر کنور نارائن کا آج صبح یہاں طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ وہ 90برس کے تھے۔ان کے کنبہ میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا ہے۔ ان کی آخری رسومات شام پانچ بجے لودھی روڈ شمشان گھاٹ پر ادا کی جائیں گی۔19ستمبر1927کو فیض آباد میں پیدا ہوئے مسٹر کنور نارائن (معروف ادیب) ’اگئے‘ کے ذریعہ مرتب شدہ ’تیسرا سپتک‘ ہندی شاعری میں مشہور ہوئے تھے اور سات دہائی سے ادب میں سرگرم تھے۔ ساہتیہ اکادمی ، بھارتیہ گیان پیٹھ جنوادی لیکھک سنگھ سمیت کئی تنظیموں نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اورا سے ہندی ادب کے لئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔

ساہتیہ اکادمی کے صدر وشوناتھ پرسادتیواری نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ اگئے کے بعد جن لوگوں نے نئی شاعر کو مالامال کیا ان میں کنور نارائن اہم سمجھے جاتے ہیں ۔ انہوں نے آتما جئی، واج شروا اور کمار جیو کی تخلیق کرکے مثنوی اور طویل نظموں کی الگ مثال پیش کی تھی۔بھارتیہ گیان پیٹھ کے ڈائرکٹر لیلا دھر منڈلوئی میں کہاکہ کنور نارائن ہندی کے ایک مفکراور شاعر تھے اور شاعری کے علاوہ انہوں نے تنقید اور فلموں کے تعلق سے تحریر کیا۔

گیان پیٹھ اور پدم بھوشن اعزاز یافتہ ہندی کے معروف شاعر کنور نارائن کا انتقال

معروف شاعر اورنقاد اشوک باجپئی نے انہیں اگئے کے بعد ہندی کا دوسرامفکر شاعر قرار دیتے ہوئے کہاکہ انہوں نے ادب میں انسانیت نوازی اور تہذیبی اقدار پر سوالات اٹھائے۔مسٹر کمار نارائن کو 2005میں گیان پیٹھ اور 2009میں پدم بھوشن کے علاوہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ نیز ہندی اکادمی کا شلاکا سمان ، ویاس سمان ، کبیر اور پریم چند پرسکار بھی ملا تھا۔ انہوں نے لکھنو یونیورسٹی سے 1951میں انگریزی ادب میں ایم اے کیا تھا۔ ان کی اہم تخلیقات میں آتم جئی، کوئی دوسرا نہیں، واج شروا، آمنے سامنے اور آکاروں کے آس پاس شامل ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز