ہانگ کانگ میں گھریلو خادمائیں بیت الخلاء میں سونے پر مجبور، حالت انتہائی خستہ

May 13, 2017 06:56 PM IST | Updated on: May 13, 2017 06:56 PM IST

کوالالمپور۔  ہانگ کانگ میں گھریلوخادماؤں کی حالت کافی خستہ ہے اور انہیں بیت الخلاء، باورچی خانہ، چھوٹے كمروں اور بالکنی میں سونے کے لئے مجبور ہونا پڑتا ہے۔ مہاجر کارکنوں کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم نے اپنے ایک سروے میں انکشاف کیا ہے کہ ہانگ کانگ میں خادماؤں کی رہن سہن کی حالت کافی 'خوفناک' ہے۔ان گھریلوخادماؤں کو بیت الخلاء، چھوٹے چھوٹے کمروں اور بالکنی میں سونا پڑ تا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم مشن فار مائگرینٹ (ایم ایف ایم ڈبلیو) نے کہا ہے کہ شہر میں 3،50،000 خادمہ ہیں جو زیادہ تر فلپائن اور انڈونیشیا کی رہنے والی ہیں۔ پانچ گھریلوخادماؤں میں سے تین خادمہ بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کئی بار ان کی صحت اور سیکورٹی کو شدید خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

تین ہزار خادماؤں پرکئے گئے سروے میں ایم ایف ایم ڈبلیو نے پایا کہ 43 فیصد خادماؤں کے پاس اپنا خود کا کمرہ تک نہیں ہے اور انہیں اسٹور روم، باورچی خانہ، بیت الخلاء، تہہ خانوں اور بالکنی میں سونے کے لئے کہا جاتا ہے۔ گھریلوخادماؤں سے یکجا کی گئی تصاویر میں انتہائی افسوسناک اور حیرتناک حقائق سامنے آئے ہیں۔ ایک تصویر میں ایک خادمہ بالکنی پر بنے ایک چھوٹے سے کمرے میں سوئی ہوئی ملیں۔ چند خادمہ توبیت الخلاء اور باورچی خانہ میں سوتی ہوئی پائی گئیں۔ اس معاملے کا انکشاف کرنے والے ریسرچ اسکالرنارمن يووي كارنے نے تھامسن رائٹر فاؤنڈیشن سے کہا، "یہ خوفناک ہے کہ ہم گھریلوخادماؤں کو ایسا کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ یہ جدید دور کی انتہائی بدترین غلامی ہے۔ " انہوں نے کہا کہ ان خادماؤں کو رہنے کے لئے مناسب جگہ دی جانی چاہئے اور انہیں بھی انسان سمجھا جانا چاہئے۔ هانگ كانگ لیبر محکمہ نے خادماؤں سے ایسے آجروں کی شکایت درج کرانے کی اپیل کی ہے جو ان کے لئے مناسب رہائش کا انتظام نہیں کرتے۔

ہانگ کانگ میں گھریلو خادمائیں بیت الخلاء میں سونے پر مجبور، حالت انتہائی خستہ

فوٹو کریڈٹ: چینل نیوز ایشیا ڈاٹ کام

چند گھریلوخادماؤں نے اس بابت پوچھے جانے پر کہا کہ شرائط کو قبول کرنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور متبادل نہیں ہے۔ ایم ایف ایم ڈبلیو نے ایک گھریلو خادمہ کے حوالے سے کہا، "ہمیں لامحالہ ان سے متفق ہونا پڑتا ہے کیونکہ ہمیں پیسوں کی ضرورت ہے۔ اگر ہم متفق نہیں ہوتے، تو ہمیں یا تو ایجنسی کو بھیج دیا جاتا ہے یا گھر واپس کر دیا جاتا ہے۔ " مسٹر كارنے نے ہانگ کانگ پر زور دیا کہ گھریلو خادماؤں کو نامناسب رہائش فراہم کرنے کے خلاف قانون بنایا جائے اور ایسے قوانین کو ختم کیا جائے جس سے انہیں اپنے آجروں کے ساتھ رہنے کے لئے لازمی بنایا گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز