ہیومن اسٹوری: بے اولاد دوست کے لئے ڈونیٹ کیا اسپرم ،دردناک تھی بچے سے علیحدگی

مکیش (بدلا ہوا نام) مدھیہ پردیش کے جبل پور سے ہیں۔گزرے 2 سال سے وہ اسپرم ڈونیٹ کر رہے ہیں ہیں نیوز 18 کے ساتھ انہوں نے اپنے تجربات شیئر کئے ہیں۔

Jun 12, 2018 10:23 AM IST | Updated on: Jun 12, 2018 10:48 AM IST

مکیش (بدلا ہوا نام) مدھیہ پردیش کے جبل پور سے ہیں۔گزرے 2 سال سے وہ اسپرم ڈونیٹ کر رہے ہیں ہیں نیوز 18 کے ساتھ انہوں نے اپنے تجربات شیئر کئے ہیں۔

مارچ 2015 کی اس دوپہر  میں اپنے شادی شدہ دوست کے گھر کھانے پر مدعو تھے اس دوران دوست نے اچانک مجھ سے اپنا اپنی فیملی بڑھانے میں مدد  طلب کی۔کسی انجان شخص کی بجائے کیوں نہ تم ہمارے لئے اسپرم ڈونر بنو!'دوسر کی اہلیہ اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے مسلسل مجھے  دیکھ رہی تھی۔ماں بننے کی کوشش میں سالوں سال تک دوائیں کھاتے ہوئے وہ کسی دوا کی ڈبیا جیسی بے جان لگنے لگی تھیں۔مجھ سے کچھ لہتے نہیں بنا۔سوچ کر بتانے کا وعدہ کر کے لوٹ آیا۔

ہیومن اسٹوری: بے اولاد دوست کے لئے ڈونیٹ کیا اسپرم ،دردناک تھی بچے سے علیحدگی

اسپرم ڈونر: علامتی تصویر

کام کی تلاش میں دہلی آیا تب یہی دوست میری فیملی بنا۔وہ میرے شہر سے تھا۔میری زبان بولتا ،مجھ سا کھاتا پیتا ۔میرا ہر ویکینڈ ان کے گھر گزرتا۔دوست کی بیوی بڑی بہن جیسا پیار کرتی۔کیا مجھے اپنے پن کا قرض چکانے کو کہا گیا!من میں عجیب سے خیال آتے ۔میں نے وہاں جانا کم کر دیا۔حالانکہ 'اسپرم ہڈ'ہر وقت ذہن میں رہتا۔میڈیکل ریپرنزیٹو (ایم آر) ہوں ۔جانتا تھا اسپرم دینا خون سینے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔پھر بھی کچھ تھا،جو اٹک رہا تھا۔شاید میرا قصبائی من یا پھر شہر میں جمنے کی جدو جہد۔

lab

وقت کے ساتھ دوست سیٹل ہو رہے تھے۔نوکری بھرا پورا کنبہ سمندر گھومتے تو فیس بک پر تصویریں ڈالتے ۔برف دیکھتے تو خوبصورت کیپشن لکھتے ۔ادھر میںتھا گریجوئیشن کے بعد سرکاری نوکری تلاشنے کی کوشش میں ناکام رہا۔دہلی آیا۔بطور ایم آر مارکیٹنگ کرتا تھا۔نائک سے شہر ماپتے ہوئےچہرے پر دھوپ اور دھول لگتی۔لوٹتے ہوئے پاس کے ڈھابے میںکھانا کھا کر سو جاتا۔کھڑکیوں پر سٹکنی نہیں،دیواریں بد رنگ،پانی کبھی آتا،کبھی نہیں آتا،ماں گزرے سال نہیں رہیں ،والد کو فون کرتا تو شکایتوں کا عنبار لگا دیتا۔

والد! باپ بننا کیا زندگی کو بدل سکے گا! اتوار کی دوپہر میں نے خود کو اسی واقف دروازے کے باہر کھڑا پایا۔

خون کئی باردیا،اسپرم پہلی مرتبہ دینے پہنچا۔

نام،پہچان خفیہ رکھنے کے وعدے سے شروعات ہوئی۔کلیکشن کیلئے ایک کنٹینر اور کچھ کتابوؓ کے ساتھ ایک کمرے میں بٹھا دیا گیا۔دروازہ اندر سے بند کرنے کی اجازت تھی،کتابیں ایک اور سرکا کر میں نے موبائل کو تلاشا۔کوئی بھی فلم احساس نہیں جگا پا رہی تھی۔مانو کوئی امتحٓن دینے بیٹھا ہوں۔"ایجیکولیٹ"کرنے میں وقت لگا۔باہر آیا تو جیسے سب مجھے ہی دیکھ رہے ہوں ۔میںنے سیمپل تھمایا اور تیزی سے نکل آیا۔

LAB

انتطار بھاری تھا،مانو میری بہادری کا امتحان ہو۔

ہم کسی کا بھی اسپرم نہیں لے سکتے ۔ایک پورا انسان جنم لیتا ہے۔بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔ڈونر کی ڈٹیلس لی جاتی ہیں۔خون ٹیسٹ ہوتا ہے۔اسپرم کاؤنٹ ٹیسٹ ہوتا ہے۔ہر ایک ملی لیٹر پر 60 ملین اسپرم کاؤنٹ ہونا ہی چاہئے۔اس سے کم والے سیمپل رجیکٹ کر دیتے ہیں"۔

اوکھلا کرایو اسپرم بینک کے انچارج سرت کمار بتاتے ہیں ،"اسپرم کوالٹی کے علاوہ بھی کئی باتیں ہوتی ہیں۔جیسے کلائنٹس ڈونر کا ذاتی ۔مذۃب جاننا چاہتے ہیں۔ہم یہ ڈسکلوز نہیں کرتے ۔بہت سے لوگ ڈیمانڈ کرتے ہٰں کہ ڈونر اونچا ،پورا ہو۔گورا رنگ ہو۔ان ضرورتوں کا دھیان رکھنا ہوتا ہے۔ہر اسپرم بینک ڈونرس کی پرفائل رکھتا ہے تاکہ کلائنٹ کی ضرورت کے مطابق اسپرم دیا جا سکے'َ۔

اسپرم ڈونیشن اپنی واقفیت کیلئے بھی کیا جاسکتا ہت لیکن عموما پہچان خفیہ رکھی جاتی ہے۔ڈونر پر دستخط لئے جاتے ہیں تاکہ وہ کسی بھی حال میں بچے پر دعوی نہ کر سکے۔

کوالیفکیشن ،رنگ،،قد اور ،عمر حساب سے 'قیمت;ادا کرتے ہیں ۔ایک ڈونیشن پر 500 روپئے فیس سے لیکر کئی مرتبی ہزار تک دئے جاتے ہیں۔

ڈونر جتنا پڑھا۔لکھا ہوگاماسے اتنے پیسے ملیں گے،سرت آگے جوڑتے ہیں۔

lab-3.jpg SARAT

اسپتال سے بلاوا آیا۔خون ٹیسٹ کے بعد عمل شروع کر دیا گیا۔

میں نے خود کو دوبارہ انتظار کرتا پایا۔سر جھٹک کر یاد دلاتا ۔میں صرف ڈونر ہوں۔ 'بھابھی'کا مسکیرج ہو گیا۔کافی دنوں تک میں تکلیف میںرہا۔سامنے پڑنے پر چہرہ سپاٹ رکھنا ہوتا۔مجھے میرے ہی بچے کا "غم" منانے کی چھوٹ نہیں تھی۔عمل دہرایا گیا ۔وہ دونوں دن گنتے ان کے انتظار میں ویسے تو میں بھی شالم تھا لیکن ایک دوست کی حیثت سے۔

انٹرنیٹ کی دنیا اور اسپتال میں اسپرم دینا جتنا آسان بتایا گیا تھا دراصل ویسا نہیں تھا۔

اچانک میں خود کو ذمی دار محسوس کرنے لگا۔اس اندیکھے بچے سے جڑنے لگا تھا۔وہ میرا بچہ ہوگا جو کبھی نہیں جان پائے گا کہ اس کا باپ کون ہے۔وہ میرا پہلا بچہ ہوگا۔

pregnancy

بڑھتے مہینوں کے ساتھ ساتھ میری بے چینی بھی بڑھنے لگی۔ویکینڈ سے پہلی رات انٹرنیٹ پر گزرتی۔کنکھیوں سے پیٹ دیکھتا اور بڑھتے حمل کو سمجھنے کی کوشش کرتا ۔میں اپنے بچے کے  بارے میں جاننا چاہتا تھا۔دونوں الٹرا ساؤنڈ کیلئے جاتے تو ایک دم لاچار ہو جاتا ۔میں شامل ہونا چاہتا تھا۔وہ میرا بچہ تھا،بھلے ہی اس پر میرا قانونی حق نہیں۔

ایک شام دوست کا فون آیا وہ اپنی بیوی کو لیکر اس کے مائکے جا رہا تھا۔]پہلا "جاپا'وہیں ہوتا ہے۔کہتے ہوئے وہ اطمینان بخش تھا۔

ان کی خوشی جتنی ظاہر تھی،میری تکلیف اتنی ہی نجی ۔اگلے کئی دنوں تک اکھڑا رہا۔یہاں تک کی ایک روز خود کو کاؤنسلر کے پاس پایا۔

زندگی پٹری پر لوٹنے لگی۔ایک روز فون آتا ہے ۔میں مارکیٹنھ کے سلسلے میں کہیں جا رہا ہوں ۔سائڈ میں رک کر بات کرتا ہوں ۔دوست خوشی سے چینخ رہا ہے۔میں بچے کا وزن پوچھتا ہوں ،بھابھی کی خیریت پوچھتا ہوں اور فون رکھ دیتا ہوں۔

اس وقت کیا جانے والا نہایت معصوم سوال،وہ کس کی طرح دکھتا ہے۔"گلے میں جیسے اٹک کر رہ جاتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز