افغانستان : طالبان کا آپریشن منصوری کا اعلان ، غیر ملکی افواج پر حملوں کے ساتھ ساتھ یرغمال بنانے کی بھی دھمکی

طالبان نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی افغانستان میں افغانی اور غیر ملکی فوجوں کے خلاف روایتی، گوریلا اور خودکش حملوں کو انجام دے گا۔

Apr 28, 2017 12:14 PM IST | Updated on: Apr 28, 2017 12:16 PM IST

کابل : طالبان نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی افغانستان میں افغانی اور غیر ملکی فوجوں کے خلاف روایتی، گوریلا اور خودکش حملوں کو انجام دے گا۔ اس آپریشن کو آپریشن منصوری کانام دیا گیا ہے جو طالبانی لیڈر اختر محمد منصور کے نام پر رکھا گیا ہے جس کی گزشتہ سال امریکی ڈرون حملے میں موت ہو گئی تھی۔

طالبان نے آج جاری ایک بیان میں کہا کہ ان نئے حملوں میں سرکاری فوجوں کو نشانہ بنایا جائے گا، فوجیوں کا قتل کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں یرغمال بنایا جائے گا۔ اس دوران یہ خیال رکھا جائے گا کہ عام شہریوں کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہ پہنچے۔ بیان کے مطابق آپریشن منصوری کا مقصد غیر ملکی اور افغان فوجوں پر حملہ، ان کی انٹیلی جنس ڈھانچے کو منہدم کرنا اور مواصلات کے نظام کو تباہ کرنا ہوگا۔ اس دوران روایتی حملوں، گوریلا تکنیک، پے درپے مسلسل حملوں ، اندرونی خلفشار اور طاقتور دھماکوں کا سہارا لیا جائے گا۔

افغانستان : طالبان کا آپریشن منصوری کا اعلان ، غیر ملکی افواج پر حملوں کے ساتھ ساتھ یرغمال بنانے کی بھی دھمکی

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے طالبان کے دس خودکش كمانڈو نے شمالی افغانستان کے مزارِ شریف میں فوج کے ایک ٹھکانے پر زوردار حملہ کیا تھا جس میں کم از کم 135 فوجیوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس حملے کے بعد وزیر دفاع اور فوجی سربراہ نے اپنے عہدوں سے استعفی دے دیا تھا۔

امریکی اندازہ كے مطابق افغانی فوجوں کا اس وقت ملک کے 60 فیصد سے کم علاقہ پر کنٹرول ہے لیکن طالبان حملوں میں اس کے ہزاروں فوجیوں کی موت ہو چکی ہے۔ اگرچہ طالبان اب بھی کسی نئے علاقہ پر کنٹرول کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس ماہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس اور قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میك ماسٹر نے افغانستان کادورہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سال 2017 افغانستان کے لئے بہت تباہ کن ثابت هوگا۔ اس سال فروری میں افغانستان میں امریکی فوجوں کے کمانڈر جنرل جان نكولسن نے کہا تھا کہ طالبان کے ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لئے انہیں مزید بین الاقوامی فوج کی ضرورت ہے۔ اس وقت افغانستان میں نیٹو کی قیادت میں تقریبا 8500 امریکی فوجی تعینات ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز